سرینگر/30مئی: وبائی بیماری کے چلتے جاری لاک ڈائون میں بھی محکمہ جل شکتی اور محکمہ پی ڈی ڈی نے اپنی چال پر چلنا پھر سے شروع کردیا ہے اکثر و بیشتر علاقوںمیں بجلی کی عدم دستیابی پر لوگوں نے شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پی ڈی ڈی محکمہ برقی رو فراہم کرنے میں کنجوسی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ عوامی حلقوں نے الزام لگایا کہ پاش کالونیوںمیں بجلی بجلی کی سپلائی مسلسل بہم رکھ کر پوری وادی کے لوگوں کو برقی رو فراہم کرنے کے جو دعوئے کئے جا رہے ہیں وہ افسوسناک ہیں۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق گزشتہ کئی دنوں سے جہاں ایک طرف گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور لوگوں کا حال بے حال ہوتا جا رہا ہے دوسری جانب محکمہ پی ڈی ڈی نے پھر سے بجلی کی کٹوتی کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ وادی کے اکثر وبیشتر علاقوںمیں برقی رو منقطع ہونے پر عوامی حلقوںنے شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف سرکار دعویٰ کر رہی ہے کہ بجلی کی سپلائی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔ ۔ عوامی حلقوں کے مطابق دن میں کئی بھی برقی رو دستیاب نہیں ہوتی ہے اور بجلی کی عدم دستیابی سے لوگوں کو مصائب ومشکلات کا سامنا کرناپڑ رہا ہے ۔ بیشتر علاقوں میں خراب ہوئے ٹرانسفارمروں کو دوبارہ اپنی جگہوں پر نصب کرنے کیلئے محکمہ پی ڈی ڈی کے اہلکار لیت ولعل کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور لوگوں کو اس بات پر مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ یا تو محکمہ پی ڈی ڈی کے لائن مینوں کے جیب گرم کریں یا پھر بجلی کی عدم دستیابی پر سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کریں۔ عوامی حلقوں نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے کہ محکمہ پی ڈی ڈی کی جانب سے وادی کے اطراف واکناف میں ہائی ٹینشن لائنوں اور بوسیدہ بجلی کے کھمبوں کو تبدیل کرنے کیلئے کوئی کاروائی ابھی تک عمل میں نہیں لائی گئی ہے جس کی وجہ سے کئی علاقوںمیں انسانی جانیں ضائع ہونے کے امکانات کافی بڑھ گئے ہیں ادھر بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے کئی علاقوں میں پینے کا پانی بھی لوگوں کو دستیاب نہیں ہو پا رہا ہے اور جل شکتی محکمہ بھی لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے میں بری طرح سے ناکام ثابت ہو چکا ہے ۔ گرمی کی شدت میں اضافہ ہونے کے ساتھ ہی نہ صرف ندی نالوںمیں پانی کی سطح کم ہو گئی ہے بلکہ کئی چشمے بھی سوکھ گئے ہیں جبکہ پی ایچ ای محکمہ کی جانب سے تعمیر کی گئی واٹر سپلائی اسکیمیں بیکار پڑی ہیں اور وادی کے 55فیصد علاقوںمیں رہنے والے لوگوں کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا کرناپڑ رہا ہے۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.