ملازمین کے ہی بچوں سے فیس لیا جائے گا تو با ضابط حکمنامہ جاری کر دیا جائے / پیرنٹس ایسوسی ایشن
سرینگر/15مئی/سی این آئی/ کمشنر سیکریٹر برائے ایجوکیشن کی جانب سے پرائیویٹ سکولوںکو فیس وصول کرنے کی گرین سگنل ملنے پر پیرنٹس ایسوسوسی ایشن کشمیر نے فیس کی وصولی کے سرکار کے حالیہ فرمان پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ اگر حکمنامہ جلد از جلد واپس نہیں لیا گیا تو وہ بچوں سمیت سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور ہو جائیں گئے ۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ پرائیوٹ اسکول ایسوسی ایشن اس بات کو لیکر سنجیدہ ہے کہ صرف ملازمین کے ہی بچوں سے فیس لینے پر پابند ہے تو اس ضمن میں با ضابطہ طور پر حکمنامہ جاری کرد یا جائے ۔ سی این آئی کے مطابق پرائیوٹ اسکولوں میں زیرتعلیم بچوں کے والدین ایسوسی ایشن نے لاک ڈائون کے چلتے فیس کی ادائیگی کو لیکر محکمہ اسکول کی جانب سے جاری کرد ہ حکمنامہ پر سخت ترین برہمی کا اظہار کیا ۔ اس سلسلے میں ایسوسی ایشن کے صدر دفتر پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے صدر خورشید احمد نے بتایا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کی جانب سے جاری کردہ حکمنامہ والدین کیلئے کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے ۔ انہوں نے سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے اس حکمنامے کو سراسر ناانصافی قراردیا ہے ۔ پروئیویٹ سکول پیرنٹس ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ پوری دنیا اس بات سے واقف ہے کہ کووروناوائرس کے نتیجے جاری لاک ڈاون سے لوگوں کی معاشی حالت کس قدر بگڑ گئی ہے اور تمام کاروباری ادارے ، پرائیویٹ کمپنیاں اور دیگر نجی ادارے بند ہے تو والدین فیس کس طرح اداکرسکتے ہیںاس کے ساتھ ساتھ سکول بھی گذشتہ دو ماہ سے بند پڑے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سکولوں کو والدین سے پیسے نکالنے کیلئے موقع ملنا چاہئے جیسا کہ انہوںنے گذشتہ برس بھی کیا تھا جب 370کا خاتمہ ہوا اور سکول قریب 6ماہ تک بند رہے اس کے باوجود بھی سکول والوںنے والدین سے فیس وصول کرلیا۔انہوں نے واضح کردیا کہ حکمنامہ جلد از جلد واپس نہ لایا گیا تو پرائیوٹ اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین اپنے بچوں کے ہمراہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائے گئے جس کی تمام تر ذمہ داری جمو ں کشمیر حکومت پر عائد ہو گی ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پرائیوٹ اسکول ایسوسی ایشن اگر اس بات کو لیکر سنجیدہ ہے کہ لاک ڈائون کے دوران صرف سرکاری ملازمین کے بچوں سے ہی فیس وصول کیا جائے گا اور غریب بچوں کو رعایت دی جائے گی تو اس ضمن میں با ضابطہ پر ایک حکمنامہ جاری کر دیا جائے کیونکہ بعد میں ان چیزوں پر عملدر آمد نہیں کیا جاتا ہے ۔ خیال رہے کہ کمشنر سیکریٹری برائے تعلیم کی جانب سے حال ہی میں پرائیویٹ سکولوں کو راحت دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہ طلبہ کے والدین سے ٹیوشن فیس حاصل کرسکتے ہیں تاہم ابھی تک اس سلسلے میں یوٹی جموں کشمیر سرکار کی جانب سے کوئی سرکاری آرڈر جاری نہیں کیا گیا ہے لیکن پرائیویٹ سکول منتظمین نے بچوں کے والدین کو موبائل پر پیغامات بھیجنے شروع کردئے ہیں جن میں فیس اداکرنے کا تقاضہ کیا جارہا ہے۔
Comments are closed.