وادی میں لاک ڈائون مزید سخت ، 51ویں روز بھی کرنا ہ سے قاضی گنڈ تک ہر سو سناٹے کا عالم

ماہ رمضان کے دوسرے جمعہ کو بھی مساجد کے ممبر و محراب خاموش ، بندشیں مزید سخت

سرینگر کے رعناواری اسپتال سے شوپیان کے 13مریض صحت یابی کے بعد گھروں کو رخصت

سرینگر/8مئی : عالمی وبائی بیماری کورنا وائرس کے بڑھتے پھیلائو کے بیچ ماہ رمضان کے دوسرے جمعہ کو بھی وادی کشمیر میںتمام مساجد کے ممبر و محراب خاموش رہے ۔ادھر عالمی وبائی بیماری کوروناوائرس بڑھتے پھیلائو کے بیچ لاک ڈاون کے 51ویں روز بھی وادی کشمیر میں معمولات زندگی درہم برہم ہوکے رہ گئیں ۔ جبکہ ریڈ زون قراردئے گئے علاقوں میں پابندیوں کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اس عالمی وبائی وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے ۔اس دوران وادی کے حساس مقامات کے علاوہ شہر خاص و لالچوک کے گردونواح میں حفاظت کے سخت انتظامات کئے گئے ۔ اسی دوران لاک ڈائون کے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھی انتظامیہ سخت ہو گئی ہے جبکہ ریڈزونوں میں بندشیں مزید سخت کر دی گئی ہے ۔کرونا وائرس کی وبائی بیماری سے صحت یاب ہونے کے بعد جنوب کشمیرکے پہاڑی ضلع سے وابستہ13مریضوں کو گھرجانے کی اجازت دے دی گئی ۔ سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر میں کورنا وائرس کے کیسوں میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔کشمیر میں کورنا وائرس کے مریضوں میں اضافہ کے بیچ لاک ڈائون بھی سختی سے نافذ ہے اور بھارت بھر کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر میں بھی آج لاک ڈاون پر مکمل عمل درآمد ہوا جس کے نتیجے میں وادی کشمیر میںمعمولات زندگی بُری طرح سے متاثر ہوئی ہے جبکہ وادی میں حساس علاقوں کے ساتھ ساتھ شہر خاص میں سخت بندشیں عائد رہیں ۔کورناوئرس کے کیسوںمیں مسلسل اضافہ ہونے کے نتیجے میں اہلیان وادی میں سخت تشویش دور گئی ہے اور لوگوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔ اس دوران انتظامیہ کی جانب سے بندشوں میں مزید سختی برتی جارہی ہے اور حکم امتناعی کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جارہا ہے ۔اور درجنوں افراد کے خلاف روزانہ کیس دائر کیا جارہا ہے ۔ عالمی وبائی کوروناوائرس کے تیزی کے ساتھ پھیلائو کی وجہ سے ملک بھر کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر میں بھی گذشتہ51روز سے مکمل لاک ڈاون جاری ہے جس کے نتیجے میں معمولات زندگی درہم برہم ہے ۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار تیز گام ہونے کے پیش نظر وادی میں مسلسل 51ویں روز بھی سخت لاک ڈاؤن جاری رہا وہیں لوگوں میں بھی خوف وتشویش لہر بھی جاری ہے اور لوگوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔ لاک ڈاون جاری رہنے کے باوجود بھی وادی میں کوروناوائرس کے کیسوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ انتظامیہ نے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لئے درجنوں ان علاقوں، جن سے وائرس کے مصدقہ یا مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں، کو ‘ریڈ زون’ قرار دے کر مکمل سیل کیا ہے اور ان علاقوں کے لوگوں کو اپنے ہی گھروں میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔جبکہ پابندی کو مزید سخت کردیا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ کوروناوائرس کو پھیلنے سے بچنے کیلئے حکم امتناعی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔اسی دوران آج ماہ مقدس کے دوسرے جمعہ کو بھی وادی کشمیر کی کسی بھی مسجد یا خانقاہ میں نما زجمعہ ادا نہ ہو سکی اور تمام مساجد کے ممبر و محراب خاموش رہے ۔ ادھر جموں کشمیر میں کوروناوائرس تیزی کے ساتھ پھیلنے کو روکنے کیلئے انتظامیہ نے جموں اور کشمیر میں شبانہ کرفیو لگانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ریڈ زون قراردئے گئے علاقوں میں پابندیوں کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اس عالمی وبائی وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے ۔جموں وکشمیر میں یونین ٹریٹری انتظامیہ نے کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لئے رات کا کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ادھر جواہرلال نہروں اسپتال سے ضلع شوپیاں سے تعلق رکھنے والے 13مریضوں کو کروناوائرس کی بیماری سے صحتیاب ہونے کے بعد اپنے گھروں کو روانہ کردیاگیا ۔جواہرلال نہروں اسپتال کی میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ڈاکٹر بلقیس نے اس بات کی تصدیق کی کہ 13مریضوں کوصحتیاب ہونے کے بعد اپنے گھروں کوروانہ کیاگیا۔

Comments are closed.