سرحدی علاقوں میں ٹھوس بنکر تعمیر کرنے کا مطالبہ؛اپنی پارٹی کاچو کی بل علاقے کے متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی

سرینگر: شمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے اطراف مسلسل جھڑپوں کے سبب قیمتی جانوں کے ضیاع پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے رہنماؤں راجہ منظور اور جاوید میرچال نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر زیرزمین بنکروں کی تعمیر کا انتظام کیا جائے ۔ جے کے این ایس کے مطابق جے کے اے پی کے رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں ، 12 اپریل کو کراس ایل او سی گولہ باری سے شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے ریڈی ، چوکی بل اور تمنا کے علاقوں میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے ایک نابالغ لڑکے سمیت تین جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا،جبکہ واقعے کے دوران زخمی ہونے والے لوگوں کی جلد صحتیابی کے لئے ۔ سابق اراکین اسمبلی نے کہا ’’بدقسمتی ہے کہ کرونا وائرس جیسی وبائی امراض کے دوران بھی گولہ باری کرنے میں کوئی کمی نہیں ہے ، جس سے جموں و کشمیر کے سرحدی علاقوں میں بسنے والے شہری آبادی کو زیادہ پریشانی لاحق ہے ۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ بینکروں کو آر پار گولہ باری کا موثر جواب پایا گیا ہے ، جس سے شہریوں کو گولہ باری کے واقعات کے دوران اپنے آپ کو بچانے کے لئے محفوظ مقام فراہم کیا جاسکتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا جموں وکشمیر کے سرحدوں اور کنٹرول لائن والے علاقوں کے رہائشی ایل او سی کے ساتھ جھڑپوں اور دشمنیوں کا سب سے زیادہ شکار ہوئے ہیں ۔ لہذا حکومت ہند کو چاہئے کہ وہ ان کی حفاظت اور سلامتی کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کپواڑہ ، بارہمولہ اور بانڈی پورہ اضلاع میں کنٹرول لائن کے قریب رہنے والے افراد اور صوبہ جموں کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے ان کے ساتھی شہری مستقل خوف اور اذیت میں رہتے ہیں ۔ انہوں نے حکومت جموں و کشمیر میں لاک ڈاوَن کے پیش نظر سرحدی علاقوں میں مفت کھانا ، راشن ، دوائیں اور دیگر ضروری اشیاء کو یقینی بنانے کی اپیل کی ۔ انہوں نے اپیل کی کہ حکومت سرحدی اضلاع کے علاقوں کو ماسک ، سینی ٹائزرز ، کھانا اور راشن کی مفت تقسیم کو یقینی بنائے ۔

Comments are closed.