21روزہ ملک گیرلاک ڈاءون میں 3مئی تک کی توسیع؛20اپریل سے مشروط نرمی کا امکان
زندگیوں کے آگے لاک ڈاوَن کی تکلیف کچھ نہیں :وزیراعظم مودی
سرینگر:وزیراعظم نریندرمودی نے منگل کی صبح ملک وقوم کے نام اپنے چوتھے خطاب میں کوروناوائرس کوپھیلنے سے روکنے کیلئے 21روزہ ملک گیرلاک ڈاءون میں 3مئی تک کی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے خبردارکیاکہ اگرتیز اورسخت فیصلے نہ لئے گئے ہوتے توبھارت میں آج کیاصورتحال ہوتی ،سوچ کربھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ 25مارچ سے لاگوملک گیرلاگوڈاءون سے ہم بھارت میں کووڈ19کوپھیلنے سے کافی حدتک کامیاب رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ باقی ملکوں میں کیاصورتحال پائی جاتی ہے ،اوروہاں ہزاروں لوگ مرے ہیں ،اسکے مقابلے میں بھارت خطرناک صورتحال کوابتک قابو میں رکھنے میں کامیاب رہاہے ۔ وزیراعظم نریندرمودی نے کہاکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا تقابل کیاجائے تو ہندوستان میں حالات بہتر ہےں ۔ انہوں نے کہاکہ کئی ممالک میں حالات ہندوستان سے زیادہ بدترہےں اور ان ممالک میں کورونا وباء سے ہزاروں لوگوں کی موت ہوگئی ہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ اگر حکومت کی جانب سے تیزفیصلے نہیں لئے جاتے تو ملک کے حالات کیسے ہوتے، یہ سوچنے پرخوف محسوس ہوتاہے ۔ انہوں نے ملک کو معاشرتی دوری اور لاک ڈاوَن کا فائدہ ملک کو ملا ہے ۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ میں جانتاہوں کہ لاک ڈاءون کی وجہ سے لوگوں کوسخت تکالیف اورمشکلات کاسامناکرناپڑتاہے لیکن ہندوستانی عوام کی زندگیوں کے آگے لاک ڈاوَن کی تکلیف کچھ نہیں ہے ۔ انہوں نے لاک ڈاءون کوعملانے میں تعاون دینے پرعوام کاشکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ ملک میں کئی ریاستوں میں نئے سال کا آغاز ہواہے اور تہواروں کے اس موسم میں لاک ڈاوَن پر عمل بھی کیاجارہاہے،توعوام کایہ جذبہ اورنظم وضبط قابل تحسین ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے مزید کہا’’جب ہمارے یہاں کورونا کے صرف 550 معاملے تھے، تبھی ہندوستان نے 21 دنوں کے مکمل لاک ڈاون کا ایک بڑا قدم اٹھا لیا تھا ۔ ہندوستان نے پریشانی بڑھنے کا انتظار نہیں کیا، بلکہ جیسے ہی پریشانی نظرآئی، اسے تیزی سے فیصلے لےکر اسی وقت روکنے کی کوشش کی ۔ انہوں نے کہاکہ آج پوری دنیا میں کورونا عالمی وبا کی جو حالت ہے ۔ آپ اسے بہتر طریقے سے جانتے ہیں ۔ دیگر ممالک کے مقابلے، ہندوستان نے کیسے اپنے یہاں انفیکشن کو روکنے کی کوشش کی ۔ آپ اس کے معاون بھی رہے ہیں اور گواہ بھی ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ اگر صرف اقتصادی نظریے سے دیکھیں تو ابھی یہ مہنگا ضرورلگتا ہے، لیکن ہندوستانی باشندوں کی زندگی کے آگے اس کا کوئی موازنہ نہیں ہوسکتا ۔ محدود وسائل کے درمیان، ہندوستان جس راستے پر چلا ہے، اس راستے کی چرچا آج پوری دنیا میں ہورہی ہے ۔ ان سب کوششوں کے درمیان، کورونا جس طرح پھیل رہا ہے، اس نے پوری دنیا کے طبی ماہرین اورحکومتوں کو مزید محتاط کردیا ہے ۔ وزیراعظم نریندرمودی نے کہا کہ ملک بھر میں جاری21دنوں کے لاک ڈاوَن میں 3 مئی تک توسیع کی جائیگی ۔ انہوں نے کہاکہ سبھی تجاویز کوزیرغورلانے کے بعدفیصلہ لیاگیاکہ لاک ڈاءون3مئی تک جاری رہے گا،اوراس حوالے سے مرکزی حکومت ضروری رہنماخطوط اورگائیڈ لائن بدھ کوجاری کی جائیگی ۔ وزیراعظم نے کہاکہ نئی گائیڈ لائن تمام حالات اورضروریات کوملحوظ نظررکھ کرہی مرتب کی گئی ہیں اورمجھے اُمیدہے کہ لوگوں نے آج تک جس نظم وضبط کیساتھ لاک ڈاءون کے تحت عائدپابندیوں کا احترام کیا،آگے بھی لوگ ایسا ہی کریں گے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ آئندہ ایک ہفتے میں کورونا وائرس کے خلاف لڑائی میں سختی مزید بڑھائی جائے گی تاہم انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومتیں مختلف علاقوں میں پائی جانے والی صورتحال کودیکھ کر20اپریل سے کچھ سرگرمیوں کومحدودپیمانے پربحال کرنے کافیصلہ لے سکتی ہیں ۔ وزیراعظم مودی نے کہاکہ 20 اپریل تک ہر تھانے، ہرضلع، ہر ریاست پر باریکی سے نظر رکھی جائےگی کہ لاک ڈاون کا کتنا عمل ہورہا ہے;238; اس کا جائزہ لیا جائےگا، جو کامیاب ہوں گے، جو ہاٹ اسپاٹ نہیں بڑھنے دیں گے ۔ وہاں پر20 اپریل سے کچھ ضروری چیزوں اورسرگرمیوں میں رعایت دی جا سکتی ہے، لیکن یاد رکھئے، یہ اجازت شرطوں کے ساتھ ہوگی ۔ لاک ڈاون کے ضابطے اگر ٹوٹتے ہیں تو پوری اجازت واپس لے لی جائےگی ۔
Comments are closed.