لاک ڈان کے 26ویں روز شہر خاص کے متعدد علاقے ریڈ زون قرار

ہر گزرتے دن کے ساتھ کوروناوائرس کے مریضوں میں اضافہ ، لوگ خوفزدہ

سرینگر:وادی کشمیر میں لاک ڈاون بدستور جاری ہے اور گذشتہ 26روز سے شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر قصبہ جات میں دفعہ 144نافذ العمل ہے ادھر کوروناوائرس کے پیش نظر لاک ڈاون کے 26ویں روز شہر خاص کے متعدد علاقوں کو ریڈ زون قراردیا گیا ہے ۔ جبکہ مسلسل بند کی وجہ سے وادی کشمیر میں زندگی بُری طرح متاچر ہوچکی ہے ۔ وادی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ کوروناوائرس کے کیسوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ سے ہر طبقہ متفکر ہوا ہے جبکہ لوگ انتہائی خوفزدہ ہوگئے ہیں ۔ جبکہ لاک ڈاون کے نتیجے میں وادی بھر میں ہو کا عالم رہا اور سڑکوں پر سناٹا چھایا رہا سڑکوں کی پبلک وکمرشل ٹرانسپورٹ غائب دکانیں مقفل ہیں ۔ اس دوران انتظامیہ کی جانب سے بندشوں میں مزید سختی برتی جارہی ہے اور حکم امتناعی کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جارہا ہے اورروزانہ درجنوں افراد کے خلاف روزانہ کیس دائر کیا جارہا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق عالمی وبائی کوروناوائرس کے تیزی کے ساتھ پھیلاءو کی وجہ سے ملک بھر کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر میں بھی لاک ڈاون مسلسل جاری ہے اور یہاں گذشتہ 26 روز سے مکمل لاک ڈاون جاری ہے جس کے نتیجے میں معمولات زندگی درہم برہم ہے ۔ اس دوران لاک ڈاون کے چوتھے ہفتے شہر سرینگر کے متعدد علاقوں کو ریڈ زون قراردیا گیا ہے جن میں شہر خاص کے خانیار، رعناواری، نوہٹہ، ایم آر گنج اور دیگر پولیس سٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں کو ریڈ زون قراردیا گیا ہے تاکہ ان علاقوں میں لوگوں کی آواجاہی قابو میں رہے ۔ اس ضمن میں ڈویژنل کمشنر کشمیر نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں کہا ہے کہ شہر خاص مختلف علاقوں کو اس لئے ریڈ زون قراردیا گیا ہے کیوں کہ شہر خاص گنجان آبادی والا علاقہ ہے جہاں پر لوگوں کا زیادہ جماءو ہے اسلئے لوگوں کی نقل و حمل کم کرنے کےلئے یہ اقدام اُٹھایا گیا ہے تاکہ کوروناوائرس شہر خاص میں زیادہ نہ پھیل سکے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ امن و قانون کی صورتحال کےلئے بندشیں نہیں ہے بلکہ لوگوں کو اس وبائی وائرس سے بچانے کےلئے ہے اس لئے لوگوں کو چاہئے کہ وہ انتظامیہ کے فیصلے کی حمایت کرے اور بھر پور تعاون کریں ۔ دریں اثناء شہر سرینگر اور دیگر قصبہ جات سے اطلاعات موصول ہورہی ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء میں قلت کے علاوہ قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے جس نے عام لوگوں کی مشکلات میں اور زیادہ اضافہ کردیا ہے ۔ ادھر کوروناوائرس میں پھیلاءو اور مریضوں میں اضافہ ہونے کے نتیجے میں لوگوں میں بھی خوف وتشویش لہر بھی جاری ہے اور لوگوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔ انتظامیہ نے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لئے شہر خاص کے علاوہ دیگر اضلاع کے درجنوں ان علاقوں ، جن سے وائرس کے مصدقہ یا مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں ، کو ;39;ریڈ زون;39; قرار دے کر مکمل سیل کیا ہے اور ان علاقوں کے لوگوں کو اپنے ہی گھروں میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے ۔ جبکہ پابندی کو مزید سخت کردیا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ کوروناوائرس کو پھیلنے سے بچنے کےلئے حکم امتناعی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے کارروائیاں انجام دے رہے ہیں ۔ ادھر لاک ڈاون کا ناجائز فائدہ اُٹھانے والوں نے عام لوگوں کا خون چوسنا شروع کیا ہے جن کے خلاف انتظامیہ کارروائی کرنے سے قاصر ہے ۔ لاک ڈاون جاری رہنے کے باوجود بھی وادی میں کوروناوائرس کے کیسوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ یاد رہے کہ گذشتہ برس ماہ نومبر میں چین کے وہان شہر سے کوروناوائرس کا پہلا کس سامنے آیاتھا جس کے بعد مذکورہ شہر میں سینکڑوں افراد اس بیماری کی لپیٹ میں آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے چین کے دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ اس وائرس کا اچر دیگر ممالک تک پھیل گیا جس پر قابو پانے کےلئے مختلف ممالک بشمول بھارت نے لاک داون شروع کیا ہے اور اس ضمن میں وادی کشمیر میں بھی لاک داون جاری ہے ۔

Comments are closed.