کوروناوائرس کے چلتے لاک ڈائون سے ہوا کی آلودگی کی سطح میں نمایاں کمی

30برسوں میں پہلی بار ہمالیہ ہندوستان اور پاکستان کے میدانی علاقوں سے دکھائی دینے لگا

سرینگر/12اپریل/سی این آئی// کوروناوائرس کی وجہ سے ہوا کی آلودگی کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور کئی دہائیوں میں پہلی بار شمالی ہندوستان اور پاکستان کے میدانی علاقوں کے باشندے یہ اطلاع دے رہے ہیں کہ وہ 150-200 کلومیٹر دور برف سے ڈھکے ہمالیہ کو دیکھ سکتے ہیں۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق دنیا بھر میں عالمی وبائی بیماری کورنا وائرس کے چلتے جہاں لاک ڈائون کے باعث کروڑوں نفسوس پر مشتمل آبادی گھروں میں ہی محصور ہے جبکہ دوسرے بہت سے ممالک کی طرح ہندوستان اور پاکستان میں صنعتیں ہفتوں سے بند ہیں ، لاکھوں افراد قرنطین میں ہیں جس کی وجہ سے سڑکیں اور شاہراہوں پر بہت کم گاڑیاں اور آمدورفت ہوتی ہے۔ اس سے ہوا کی آلودگی میں تیزی سے کمی اور، مرئیت میں بہتری آئی ہے۔ پچھلے کچھ ہفتوں کے دوران شمالی ہندوستان میں آلودگی میں 40 سے زیادہ کمی آئی ہے۔شمالی ہندوستان کے شہروں جیسے ضلع جالندھر (ریاست پنجاب) اور شمال مشرقی پاکستان میں بھی بہت سے باشندوں کے لئے 200 کلومیٹر دور ہمالیائی پہاڑیوں کو دیکھنا ایک بے مثال نظارہ ہے جوپچھلے 30 برس میں پہلی دفعہ واقع ہوا ہے۔خیال رہے کہ کورنا وائرس کے بڑھتے پھیلائو کے بیچ پوری دنیا میں عالمی وبائی بیماری کے پیش نظر لاک ڈائون جاری رہے ہیں اور آبادی گھروں میں ہی محصور ہے جبکہ ہر طرف سناٹے کا عالم چھایا ہوا ہے اور کوئی کسی بھی گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔

Comments are closed.