سرحدی ضلع کپوارہ کے کیرن اور ٹنگڈار حدمتارکہ پر شدید گولہ باری
سماعت شکن گولہ باری سے آبادی خوفزدہ ، ضلع بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل
سرینگر/10اپریل: سرحدی ضلع کپوارہ کے سرحدی پٹی پر ہندوپاک افواج کے مابین جمعہ کو شدید گولہ باری ہوئی جس کے نتیجے میں آر پار سرحدی آبادی میں خوف وہراس پھیل گیا ہے ۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے نزدیک آباد دیہات کے علاوہ کئی کلو میٹر دور مختلف دیہات کے لوگوںنے اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لی ہے کیوں کہ آج کی گولہ باری نے سرحدی پٹی سے کافی دور علاقوں کے لوگوں کو خوف زدہ کردیا ہے ۔ ادھر گولہ باری کے پیش نظر ضلع انتظامیہ نے ضلع بھر میں انٹرنیٹ سہولیات پر عارضی پابندی لگادی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ایک طرف جہاں دنیا بھر اس وقت عالمی وبائی وائرس کووڈ 19سے نمٹنے میں مصروف عمل ہے وہیں پر ہندوستان اور پاکستانی کی افواج ایک دوسرے پر جدید ترین ہتھیاروں سے نشانہ بناکر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کررہی ہے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جموں وکشمیر میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور بین الاقوامی سرحد پر دونوں ممالک کی افواج کے مابین گولہ باری کا تبادلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ کے کیرن اور ٹنگڈار سیکٹروں میں ایل او سی پر طرفین کے درمیان جمعہ کو دوپہر کے وقت شدید گولہ باری کا تبادلہ شروع ہوا۔اگرچہ اس میں فوری طور پر کسی بھی جانب کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے تاہم متعدد سرحدی دیہات میں شدید خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ لائن آف کنٹرول سے متصل دیہات کے علاوہ کئی کلو میٹر دور علاقوں جن میں پنزگام،ملک پورہ ، ہفراڈہ اور فرکین شامل ہیں کے لوگوں نے اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات میں پناہ لی ہے کیوں کہ ان علاقوں میں آر پار گولہ باری سے خوف کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق پنزگام اور دیگر ملحقہ علاقوں میں لوگ خوف کے مارے سہم کے رہ گئے ہیں کیوں کہ گولہ باری کے شماعت شکن آوازیں جو انہوںنے آج تک نہیں سنی تھی انہیں بے چین کررہی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ اس طرح کی گولہ باری آج تک لوگوں نے نہیں دیکھی ہے ۔ دریں اثناء ضلع انتظامیہ نے گولہ باری کے پیش نظر ضلع بھر میں انٹرنیٹ پر عارضی پابند عائد کی ہے جس کے نتیجے میں انٹرنیٹ صارفین کو شدید مشکلا ت کا سامناہے ۔
Comments are closed.