وادی میں کوروناکیسوں میں مسلسل اضافتہ تشویشناک ۔ ڈاک

اب سفری تفصیلات اور متاثرہ سے رابطہ وائرکے شکار ہونے کی وجہ نہیں رہی

سرینگر/09اپریل: ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ وادی کشمیر میں کوروناوائرس جس تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے یہ تشویشناک بات ہے اور اب کووڈ 19کے مریضوں کی سفری تفصیلات اور کسی متاثرہ شخص رابطہ ہی موجب نہیں بن رہے ہیں بلکہ پُراسراط طریقے سے لوگ اب اس وائرس کے شکار ہورہے ہیں اسلئے لوگوں کو اور زیادہ احتیاط برتنے کے ساتھ ساتھ ہیلتھ ایڈوائزری پر مکمل عمل کرنا ہوگا اور بنا کسی مجبور کے اپنے گھروں سے نکلنے کی زحمت نہیں کرنی چاہئے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حاجن میں ایک اور کووڈ 19کے مریض کی موت نے یہ بات واضح کردی ہے کہ اب ٹراول ہسٹری یا ان سے رابطہ سے ہی کورونانہیں پھیلتا بلکہ اب یہ سماجی رابط سے بھی پھیل رہا ہے جو کہ ایک تشویشناک بات ہے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ مہلوک شخص کی عمر 52برس تھی اور جنس کے طور پر مرد تھا جبکہ یہ پہلے سے ہی زیابطیس کا مریض تھا جس کو چند دن پہلے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال میں سوموار کے روز داخل کیا گیا تھا اور اس کی موت واقع ہوئی ۔ موت کے بعد مہلوک کا ٹسٹ کوروناوائرس کیلئے مثبت آیا تھا ۔ انہوںنے کہا کہ مذکورہ شخص کی کوئی سفری تاریخ نہیں تھی اور نہ کسی پازیٹیو کیس سے اس کا رابطہ رہا تھا ۔ اسی طرح ایک ہفتہ قبل ٹنگمرگ سے تعلق رکھنا والا شخص چھاتی کے امراج کے ہسپتال سی ڈی میں فوت ہوا تاہم اس کی بھی کوئی ٹراول ہسٹری نہیں تھی اور ناہی مذکورہ شخص کو کسی پازیٹیو کیس سے رابطہ تھا ۔ اسی طرح چند روز پہلے ایک اور شخص نشاط سرینگر سے جو تعلق رکھتا تھا کو کوورنا وائرس میںمبتلاء پایا گیا اس کی بھی کوئی ہسٹری نہیں تھی تو اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مذکورہ اشخاص کو صرف اس لئے انفکشن ہوا تھا کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نکلنے کے دوران کسی ایسے شخص سے ملے تھے یا کسی ایسی چیز کو چھوا تھا جس پر پہلے ہی وائر کا اثر تھا ۔ انہوںنے کہا کہ لوگوں میں وائر پھیل چکا ہے اور اس طرح کی صورتحال جب پیش آئے تو اس کو عرف عام میں ’’کمونٹی ٹرانسمشن ‘‘کہتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ اس طرح کے مزید کیس آنے والے دنوں میں سامنے آئیں اسلئے ہمیں زیادہ سے زیاہ ٹسٹ لیبارٹریوں کی ضرورت پڑے گی اور ہمیں اب کمونٹی ٹسٹ سسٹم کی طرف دھیان دینا چاہئے ۔

Comments are closed.