لاک ڈائون کے چلتے بیرون ریاستوں میں درماندہ کشمیری طلبہ اور دیگر افراد پریشان

کھانے پینے کاسامان ختم ہونے کے باعث فاقہ کشی پر مجبور ، جموں کشمیر انتظامیہ سے مداخلت کی اپیل

سرینگر/09اپریل: کوویڈ 19کے بڑھتے پھیلائو کے بیچ وادی کشمیر میں مکمل لاک ڈائون کے باعث جہاں بنیادی اشیائے ضروریہ کی سخت قلت پیدا ہوگئی ہے وہیں بیرون ریاستوں میں درماندہ کشمیری طلبہ پریشانیوں میں مبتلا ہو گئے ہیں جبکہ ان کے پاس کھانے پینے کی تمام چیزیں ختم ہوگئی اور وہ فاقہ کشی پر مجبور ہو رہے ہیں ۔ سی این آئی کے مطابق ملک بھر میں مکمل لاک ڈائو ن کے چلتے بیرون ریاستوں میں درماندہ طلبہ اور دیگر مسافر پریشانی کی حالت میں ہے اور ضروری چیزوں کی قلت کے باعث وہ فاقہ کشی پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ درماندہ کشمیر ی طلبہ اور دیگر افراد کو واپس لانے کیلئے ان کے والدین نے ایک مرتبہ پھر جموں کشمیر اور مرکزی سرکار سے مداخلت کی اپیل کی ہے ۔سی این آئی کو مختلف علاقوں سے موصولہ فون کالز میں والدین نے بتایا کہ ان کے بچے بنگلہ دیش کے مختلف کالجوں میں زیر تعلیم ہے اور وہ وہیں درماندہ ہو کر رہ گئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی زندگیوں کو وہاں خطرہ لاحق ہو گیا ہے اور جموں کشمیر کی سرکار ان کو واپس لانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھارہی ہے ۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر جموںکشمیر و مرکزی سرکار سے اپیل کی ہے کہ ان کے بچوں کو واپس گھر لانے کیلئے اقدامات اٹھائیں جائے ۔ ادھر بنگلوار کے مختلف کالجوں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ نے بھی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ انہیں واپس گھر لانے کیلئے اقدامات اٹھائیں جائے ۔ سی این آئی کو بنگلوار سے ایک طالب علم نے بتایا کہ وہ 40کے قریب طلبہ کالج میں ہوسٹل میں درماند ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ گھر واپسی کیلئے انہوں نے کئی افسران سے بھی رابطہ قائم کیا تھا تاہم انہوں نے کوئی توجہ فراہم نہیں ہے ۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ وہ گھر واپسی پر 14روز تک کورنٹائن میں بھی رہنے کو تیار ہے تاہم ہمیں گھر واپس لانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھا ئیں جا رہے ہیں ۔ ایک اور طالب علم نے بتایا کہ ان کے پیسہ بھی اب ختم ہو گئے ہیں اور انہیں کھانے پینے کیلئے کوئی سامان بھی دستیاب نہیں ہے ۔سرینگر کے ایک طالبہ نے بتایا کہ ان کی گھر واپسی کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھا ئیں جا رہے ہیں ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جموں کشمیر انتظامیہ کی طرف سے انہیں کافی مدد ملی تاہم مرکزی سرکار ابھی تک ان کی اپسی کیلئے کوئی اقدامات نہیں کر رہی ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے گھر والوں بھی فکرو تشویش میں مبتلا ہے جبکہ ان کی والدہ ہر روز فون پر آنسو بہا کر ہمارے گھر واپسی کی فکر میں ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک مرتبہ پھر جموں کشمیر انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ ہماری گھر واپسی کیلئے اقدامات اٹھائیں جائے تاکہ ہم بھی اپنے گھروں کو صیح و سلامت پہنچ سکیں ۔ ادھر بیرون ریاستوں جن میں پنجاب ، ہریانہ ، میں کشمیری افراد درماندہ ہو گئے ہیں جنہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ انہیں گھر واپس لایا جائے ۔(سی این آئی )

Comments are closed.