بارہمولہ میں تلاشی آپریشن کے دوران جیش کا جنگجو گرفتار

سوپور میں جاں بحق جنگجو کے نماز جنازہ میں شرکت کرنے والوں کی تلاش شروع

سرینگر/09اپریل: شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں فوج و فورسز نے خصوصی تلاشی آپریشن کے دوران جیش محمد سے وابستہ جنگجوئوں کو اسلحہ سمیت گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ ادھر سوپور میں جاں بحق جنگجو کے نماز جنازہ میں شرکت کرکے والوں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے پولیس نے کہا کہ ان کی شناخت ہو چکی ہے اور ان کے خلا ف قانونی کارورائی ہو گی ۔ سی این آئی کے مطابق چندوسہ بارہمولہ گاوں میں جمعرات کو ایک سرچ آپریشن کے دوران جنگجو کو کو گرفتار کرلیا گیا۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج کے52 آر آر ، سی آر پی ایف ، ایس او جی اور پولیس کی مشترکہ ٹیم نے سمن نالہ چندوسہگاوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی ۔ بتایا جاتا ہے کہ تلاشی کارروائی کے دوران فورسز نے بشیر احمد بیک نامی جنگجو کی گرفتاری عمل میں لائی اور اس کے قبضے سے اے کے 47بھی بر آمد کر لی ۔ ذرائع نے بتایا کہ گرفتار کئے گئے جنگجو کا تعلق عسکری تنظیم جیش محمد سے تھا ۔ پولیس کے ایک سنیئر افسر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ معاملے کی نسبت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے ۔ ادھر سوپور پولیس نے گزشتہ دنوں جاں بحق جنگجوکے نماز جنازہ میں شرکت کرنے والوں کی شناخت کرنے کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے واضح کیا کہ نماز جنازہ میں شرکت کرکے والوں کے خلاف قانونی کارورائی ہو گی ۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ ارم پورہ سوپور کے علاقے گل آباد میں بدھ کے روز ہلاک ہونے والے جنگجو کے جنازے کے شرکا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ مہلک کورونا وائرس کے پھیلا وکے پیش نظر حکومت کی سخت لاک ڈاون ہدایات کے باوجود لوگوں نے جنازے کے جلوس میں شرکت کی ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی شناخت کرنے کیلئے کارروائی شروع کی گئی ہے اور جو بھی قصور وار ہونگے ان کے خلاف کارورائی ہو گی ۔

Comments are closed.