کووڈ 19کی وجہ سے کسی کشمیری کی بیرون ملک پہلی موت کا معاملہ سامنے آیا
سرینگر کے مہلوک رہائشی کے فرزند نے کشمیریوں کو اپنے ہی گھروںمیں رہنے کی اپیل کی
سرینگر/09اپریل/سی این آئی// کشمیر سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کی بیرون ملک کووڈ 19سے پہلی موت کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ یو کے میںکووڈ 19کی وجہ سے فوت ہوئے کشمیری شخص کے فرزند ڈاکٹر نے کشمیریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ہی گھروں میں رہیں کیوںکہ اس موذی وائرس کا ابھی کوئی علاج سامنے نہیں آیا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق بیرون ملک وادی سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کی کووروناوائر س سے موت پہلا معاملا سامنے آیا ہے ۔ سیلز ٹیکس محکمہ کے سبکدوش ملازم کی موت یوکے میں کوروناوائرس سے موت واقع ہوئی ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر زیا رسول بٹ ڈنٹل سرجن کے والد کو یوکے میں بارہ روز پہلے ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جن کا کوروناوائرس کا ٹسٹ مثبت آیا تھا گذشتہ روز ان کی ہسپتال میں ہی موت واقع ہوئی ہے ۔ موصوف سولنہ کے رہائشی تھے تاہم اس وقت وہ پیر باغ سرینگر میں رہائش پذیر تھے ۔ مہلوک کے فرزند ڈاکٹر ضیاع کہا ہے کہ ان کے والد اور والدہ نومبر میں یوکے آئے تھے جہاں پر ان کے دو بیٹے کام کررہے تھے ۔ انہو ں نے کہا کہ میرے دو بھائی ڈاکٹر ہیں جو یوکے میں رہائش پذیر ہے اور انہوں نے نومبر کے مہینے میں ہماری والدہ اور والد کو بھی یہاں بلایا تھا انہوںنے کہا کہ میرا ایک بھائی اس وائرس میں مبتلاء ہوچکا تھا جس کے نتیجے میں والدہ اور والدہ میں یہ وائرس منتقل ہوا تاہم بھائی اور والدہ صحتیاب ہوئے لیکن ان کے والد کی موت واقع ہوئی ہے ۔ انہوںنے اس ضمن میں کشمیری عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ہی گھروں میں رہیں کیوں کہ یہ وائرس ایک خطرناک جان لیوا مرض ہے جس کا فی الحال علاج ممکن نہیں ہے اس لئے لوگوںکوچاہئے کہ وہ اپنے ہی گھروں میں رہنے کو ترجیح دیںاور انتظامیہ اور محکمہ ہیلتھ کی جانب سے وقت وقت پر جاری کردہ ایڈوائزری پر مکمل عمل کریں ۔
Comments are closed.