لاک ڈاون کے 3ہفتے مکمل ، کورونامیں مبتلاء مریضوں میں اضافہ سے لوگ خوفزدہ ، بندشیں مزید سخت

کشمیر کی اسلامی تاریخ میں پہلی بار شب برات کے سلسلے شبانہ اجتماعات منعقد نہ ہوسکے

سرینگر/08اپریل: وادی کشمیر میں لاک ڈاون کے3ہفتے مکمل ہوچکے ہیں اورلاک ڈاون کے نتیجے میں بدھ کے روز بھی وادی کشمیر میںمعمولات زندگی بُری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔دریں اثناء کشمیر کی اسلامی تاریخ یعنی گذشتہ سات سو برسوں میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ وبائی بیماری کی وجہ وجہ سے کشمیر کی تمام مساجد میں شب برات کے روز کوئی بڑا اجتماع منعقد نہیں ہوا ۔ادھرگذشتہ روز وادی میں ایک درجن سے زائد مریضوں کے ٹسٹ مثبت آنے کے بعد لوگوں میں خوف اور ڈر میں مزید اضافہ ہواہے جبکہ لاک ڈاون کے نتیجے میں وادی بھر میں ہو کا عالم رہا اور سڑکوں پر سناٹا چھایا رہا سڑکوں کی پبلک وکمرشل ٹرانسپورٹ غائب دکانیں مقفل ہونے کے ساتھ ساتھ ہر سو خوف کے سائے دکھائی دے رہے ہیں۔ادھر کورناوئرس کے کیسوںمیں مسلسل اضافہ ہونے کے نتیجے میں اہلیان وادی میں سخت تشویش دور گئی ہے اور لوگوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔ اس دوران انتظامیہ کی جانب سے بندشوں میں مزید سختی برتی جارہی ہے اور حکم امتناعی کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جارہا ہے اورروزانہ درجنوں افراد کے خلاف روزانہ کیس دائر کیا جارہا ہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق عالمی وبائی کوروناوائرس کے تیزی کے ساتھ پھیلائو کی وجہ سے ملک بھر کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر میں بھی لاک ڈاون مسلسل جاری ہے اگرچہ ملک میں گذشتہ بارہ روز سے لاک ڈاون جاری ہے تاہم وادی کشمیر میں گذشتہ 18 روز سے مکمل لاک ڈاون جاری ہے جس کے نتیجے میں معمولات زندگی درہم برہم ہے ۔ وادی کے خادنیار سے بونیار تک مکمل لاک ڈاون کے بعد لوگ سخت دشواریوں کے شکار ہوگئے ہیں ۔ کھانے پینے کی اشیاء میں قلت کے علاوہ قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے جس نے عام لوگوں کی مشکلات میں اور زیادہ اضافہ کردیا ہے ۔ادھرروزانا کوروناوائرس میں پھیلائو اور مریضوںمیں اضافہ ہونے کے نتیجے میںلوگوں میں بھی خوف وتشویش لہر بھی جاری ہے اور لوگوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔ انتظامیہ نے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لئے درجنوں ان علاقوں، جن سے وائرس کے مصدقہ یا مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں، کو ‘ریڈ زون’ قرار دے کر مکمل سیل کیا ہے اور ان علاقوں کے لوگوں کو اپنے ہی گھروں میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔جبکہ پابندی کو مزید سخت کردیا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ کوروناوائرس کو پھیلنے سے بچنے کیلئے حکم امتناعی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔ ادھر لاک ڈاون کا ناجائز فائدہ اُٹھانے والوں نے عام لوگوں کا خون چوسنا شروع کیا ہے جن کے خلاف انتظامیہ کارروائی کرنے سے قاصر ہے ۔ لاک ڈاون جاری رہنے کے باوجود بھی وادی میں کوروناوائرس کے کیسوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔دریں اثناء وادی کشمیرمیں اسلامی تاریخ میں پہلی بار گذشتہ 700برسوں میں ایسا ہوا ہے کہ وادی کی تمام چھوٹی بڑی مساجد میں شب برات کے اجتماعات منعقد نہیں ہوئے جس کے نتیجے میں توحید پرستوں میں مایوسی چھاگئی ۔

Comments are closed.