غیرمعیاری اورزائدالمیادگیس سلنڈروں کی آزادانہ فراہمی

سری نگر؍؍ ؍ ’غیرمعیاری اورزائدالمیادگیس سلنڈروں کی آزادانہ فراہمی‘کے نتیجے میں’ گھروں،دفتروں،دوکانوں ،کارخانوں اور نجی گا ڑ یوں میں مال وجان کے ضیاں کا اندیشہ لاحق ‘ ہو رہاہے جبکہ اس حساس معاملے کے بارے میں گیس سلنڈرفراہم کرنے والی ایجنسیاں اورمتعلقہ سرکاری حکام مجرمانہ غفلت شعاری کے مرتکب ہورہے ہیں۔یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ حالیہ کچھ برسوں سے کشمیروادی میں آگ زنی کی بیشتر وارداتیں گیس کے اخراج اورسلنڈروں کے پھٹ جانے کے نتیجے میں رونماہوئی ہیں جبکہ اس دوران کئی افرادلقمہ اجل بن چکے ہیں اورکروڑوں روپے مالیت کی املاک تباہ ہوچکی ہے ۔ مختلف پیٹرولیم ایجنسیوں کی طرف سے رسوئی گیس سے بھرے جوسلنڈروادی میں عام صارفین،تجارتی مراکز،سرکاری ونجی دفاتراوردکانات وغیرہ کوفراہم کئے جاتے ہیں ،ایسے سلنڈروں کے غیرمعیاری یازائدالمعیادہونے کاسنگین معاملہ بارہامقامی میڈیا بالخصوص ادارہ ’کے این ایس ‘عام صارفین کے ساتھ ساتھ متعلقہ حکام کوگوش گذارکرانے کی کوشش کی لیکن آج تک اس حساس معاملے یاحقوق الصارفین کے زمرے میں آنے والے مسئلے کی طرف کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی جسکے نتیجے میں اب پوری وادی میں بغیرکسی ٹیسٹ یاجانچ پڑتال کے گھروں اوردفتروں میں استعمال ہونے والے چھوٹے بڑے سلنڈر کھلے بازارمیں گاجرمولی کی طرح بک رہے ہیں۔2کلوگرام سے14کلوگرام تک کے جوسلنڈرفروخت وفراہم اوربعدازاں استعما ل میں لائے جارہے ہیں ،ایسے سلنڈروں کے معیاری ہونے کی کوئی جانچ نہیں ہورہی ہے بلکہ بغیرکسی طریقہ کارکے ایسے تمام خالی یاگیس سے بھرے ہوئے چھوٹے بڑے سلنڈربیرون ریاستوں سے وادی درآمدکئے جارہے ہیں ۔موسم سرماکے پیش نظرہزاروں اورلاکھوں کی تعدادمیں ایسے چھوٹے بڑے سلنڈروں کامخصوص گوداموں میں ذخیرہ کیاجاتاہے تاکہ سرینگرجموں شاہراہ برف باری کے نتیجے میں بندہونے کے بعدکشمیرمیں رسوئی گیس یالائٹنگ کیلئے استعمال میں لائے جانے والے سلنڈروں کی کوئی قلت نہ ہونے پائے۔کے این ایس کے مطابق موسم سرما کے دوران کشمیر کے ہر گھر ، دفتر ، کارخانے اور دکان میں بجلی کی عدم دستیابی کے چلتے چونکہ رسوئی گیس اور دیگر چھوٹے سلنڈروں کا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے تو اس وجہ سے ایسے سلنڈروں کی مانگ کافی بڑھ جاتی ہے اور اس مانگ کو پورا کرنے کیلئے رسوئی گیس فراہم کرنے والی ایجنسیاں اور دکاندار سلنڈروں کے معیار کی طرف کوئی توجہ دینے کے بجائے صرف اس بات کی فکر رکھتے ہیں کہ انہیں ایسے سلنڈروں کی فروختگی سے کس قدر مالی منافع حاصل ہوگا اور متعلقین کی اسی من مانی کے نتیجے میں وادی میں بالخصو ص موسم سرما کے دوران غیر معیاری اور زائد المعیاد رسوئی گیس سلنڈروں کے ساتھ ساتھ لائٹنگ سلنڈروں کی در آمد میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوجاتا ہے ۔ تمام چھوٹے بڑے بازاروں میں چھوٹے بڑے گیس سلنڈر گاجر مولی کی طرح بک رہے ہیں اور ایسے سلنڈروں کے معیار کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ رپورٹروں نے مختلف بازاروں میں بچشم خود دیکھا کہ رسوئی گیس فراہم کرنے والی مقامی نجی ایجنسیوں اور ڈیلروں کی طرف سے صارفین کو جو رسوئی گیس سلنڈر فراہم کئے جاتے ہیں ، ایسے سلنڈروں کے معیاری یا معیادی ہونے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے جبکہ لائٹنگ کیلئے گھروں میں استعمال میں ہونے والے چھوٹے سلنڈروں کے معیاری ہونے کی طرف بھی کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ، جس کے نتیجے میں لوگ رسوئی گیس سلنڈر وں اور لائٹنگ سلنڈروں کی صورت میں بارود اپنے گھر لے جاکر اپنے و اپنے اہل خانہ نیز اپنی املاک کیلئے خود سنگین خطرہ پیدا کر دیتے ہیں ۔ کے این ایس کے مطابق گیس سلنڈرس رولز ، 2004 اور ایکس پلوسیو ایکٹ 1884اور ان دونوں رولز و ایکٹوں میں بعد ازاں کی گئی ترامیم میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ صرف منظور و تسلیم شدہ کمپنیاں یا فرمیں ہی مختلف نوعیت کے سلنڈر تیار کر سکتی ہیں جبکہ مذکورہ رولز اور قوانین میں اس بات کی بھی نشان دہی کی گئی ہے کہ سلنڈروں کی بناؤٹ میں کس قسم کی دھات کا استعمال ہونا چاہئے ۔ مذکورہ رولز اور قوانین میں اس بات کو بھی واضح کیا گیا ہے کہ مختلف مقاصد کیلئے تیار کئے جانے والے سلنڈروں کے استعمال کی ایک معیاد مقرر ہونی چاہئے اور زائدالمعیاد یا غیر معیاری ہونے کی صورت میں رسوئی گیس یا لائٹنگ کیلئے استعمال میں لائے جانے والے بڑے چھوٹے سلنڈروں کے استعمال پر پابندی عائد کی جانی چاہئے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح ہی جموں وکشمیر میں بھی ہندوستان پیٹرولیم،انڈین اوئل ،بھارت پیٹرولیم کے ذریعے رسوئی گیس عام صارفین اور سرکاری دفاتر کو فراہم کیا جاتا ہے اور مذکورہ بالا تینوں مرکزی پٹرولیم کمپنیاں رسوئی گیس کی تقسیم کاری کیلئے الگ الگ نشان یا لیبل والے سلنڈروں کا استعمال کرتے ہیں اور متعلقہ رولز و قوانین میں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ ایک مخصوص پٹرولیم کمپنی کی طرف سے استعمال میں لایا جانے والا سلنڈر دوسر ی پٹرولیم کمپنی استعمال میں نہیں لاسکتی ہے لیکن کشمیر وادی میں ایسا نہیں ہوتا ہے اور ایک کمپنی کے سلنڈروں کو دوسری کمپنیوں رسوئی گیس کیلئے استعمال میں لارہے ہیں ۔ کے این ایس کے مطابق مختلف بوتل ڈبہ بند غذائی اجناس اور ادویات کی طرح ہی گیس سلنڈروں کو استعمال میں لانے کیلئے ایک معیاد مقرر ہوا کرتی ہے اور یہ معیاد گزرجانے کے بعد اشیائے خوردونوش اور ادویات کی طرح ہی گیس سلنڈروں کا استعمال بھی لوگوں کیلئے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے لیکن ریاست جموں و کشمیر بالخصوص وادی میں غیر معیاری یا زائدالمعیاد گیس سلنڈروں کا تعین کرنے کیلئے کوئی نظام موجود نہیں ہے جبکہ ایسا کوئی نظام یا طریقہ کار رائج کرنے کی طرف بھی اب تک کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے ۔ (کے این ایس)

Comments are closed.