اگلر کنڈی میں شبانہ چھاپوں کے دوران گرفتاریاں لوگوں کا ڈپٹی کمشنر دفتر پلوامہ کے باہر دھرنا ،سرینگر شوپیان شاہراہ پر ٹریفک مسدود
سرینگر/29نومبر/
اگلر کنڈی پلوامہ کے لوگوں نے جمعرات کو ڈی سی آفس پلوامہ کے باہر دھرنا دیکر آئے روز شبانہ چھاپوں کے دوران فورسز کے ہاتھوںنوجوانوں کی گرفتاریوں، املاک کی شدید توڑ پھوڑ اور لوگوں کی بلاجواز مارپیٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے اورسرینگر شوپیان شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت مسدود کرکے رکھ دی۔ نمائندے نے پلوامہ سے اطلاع دی ہے کہ ضلع کے اگلر کنڈی علاقے سے تعلق رکھنیب والے لوگوںکی ایک بڑی تعداد جمعرات کی صبح پلوامہ پہنچی اور ڈپٹی کمشنر آفس کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئی۔مظاہرین نے فورسز کے خلاف نعرے بازی شروع کرتے ہوئے ان پر علاقے میں خوف و دہشت پھیلانے کا الزام عائد کیا۔ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں قریب ایک ماہ قبل فورسز اور جنگجوئوں کے مابین ہوئی تصادم آرائی میں3جنگجو اور فورسز کا ایک اہلکار مارا گیا، تب سے فورسز اہلکار تقریباً ہر روز علاقے میں شبانہ چھاپے ڈالتے ہیں جس دوران نہ صرف گھروں کی توڑ پھوڑ بلکہ مکینوں کی بلا وجہ مارپیٹ بھی کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان چھاپوں کے دوران نوجوانوں کا شدید زدوکوب اور انہیں گرفتار کرنا اب ایک معمول بن گیا ہے۔مظاہرین نے بتایا کہ گزشتہ شب بھی دونوجوانوں کی ہڈی پسلی ایک کردی گئی ۔ان کا کہنا تھا کہ فورسز اہلکارآئے روز گائوں میں داخل ہوکر تلاشی کارروائی کے بہانے رہائشی مکانوں اور دیگر تعمیرات کی شدید توڑ پھوڑ کرتے ہیں ۔ نمائندے کے مطابق مقامی لوگوں نے بتایا کہ فورسز بغیر کسی اشتعال یا جواز کے لوگوں کی زبردست مارپیٹ بھی کرتے ہیں ۔احتجاجی دھرنے پر بیٹھے مظاہرین نے سرینگر شوپیان سڑک پررکائوٹیں بھی کھڑی کیں جس کے نتیجے میںگاڑیوں کی آمدورفت قریب دو گھنٹوں تک معطل رہی۔بعد میں ڈپٹی کمشنر پلوامہ غلام محمد ڈار نے مظاہرین کو یہ معاملہ فوج کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اٹھانے کا یقین دلایا جس پر مظاہرین پر امن طور منتشر ہوئے۔
Comments are closed.