حافظ اور لشکر کا حامی ہوں/مشرف لشکر طیبہ پرویز مشرف کی پیداوار/ڈاکٹر فاروق پاکستان میں قدم جمانے کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں/عمر

سرینگر/29اکتوبر/مانیٹرنگ/
 ممبئی حملوں میں لشکر طیبہ کے رُول کو یکسر مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ وہ حافظ سعید اورلشکر طیبہ کے حامی ہیں ۔انہوں نے کہا ’میں لشکر طیبہ اور جماعت الدعوہ دونوں کو پسند کرتا ہوں اور وہ مجھے پسند کرتے ہیں‘ جبکہ ممبئی حملوں میں لشکر طیبہ ملوث نہیں۔ادھر مشرف کے تازہ بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ پاکستان میں قدم جمانے کیلئے پرویز مشرف کچھ بھی کرسکتے ہیں جبکہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ لشکرطیبہ مشرف کی ہی پیداوار ہے۔مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق پاکستان کی نجی نیوز چینل اے آر وائی کے پوگرام ’’الیو نتھ آئور‘‘ میں بات کرتے ہوئے پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ لشکر طیبہ کے حامی ہیں اور لشکر طیبہ بھی انہیں پسند کرتا ہے۔ انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ وہ جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کو بھی پسند کرتے ہیں اور ان سے ملاقات بھی کی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر مسئلہ پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ہے۔ مسٹر مشرف نے اس سلسلے میں کہا’میں ہمیشہ کشمیر میں فاعل اور بھارتی فوج کو دبانے کے حق میں رہا ہوں‘۔ انہوں نے لشکر طیبہ کو ایک عظیم طاقت قرار دیا۔ سابق صدر نے بھارت اور امریکہ پر لشکر طیبہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا الزام صادر کیا۔ایک سوال کے جواب میں ریٹائرڈ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ میں کشمیر میں پھرپور جواب دینے کا حامی ہوں اور میں لشکرطیبہ کا سب سے بڑا سپورٹر ہوں جب کہ لشکرطیّبہ و جماعت الدعوہ دونوں مجھے بہت پسند کرتے ہیں اور حافظ سعید سے بھی ملاقات ہوچکی ہے جنہیں بھارت نے امریکا کے ذریعے دہشت گرد ڈکلیئر کروایا ہے جبکہ ممبئی حملوں میں لشکریہ طیبہ ملوث نہیں ہے۔ملکی حالات کا ذکر کرتے ہوئے سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کے مسائل کا حل الیکشن نہیں ہیں بلکہ واحد حل ٹیکنوکریٹ حکومت کا قیام ہے جس کے لیے جمہوری نظام میں تبدیلیاں اور ازسرنو انتخابی اصلاحات کا ہونا لازمی امر ہے اور اس طرح کی آئینی اصلاحات دنیا کے تمام ممالک میں کی جاتی ہیں۔ ریٹائرڈ آرمی چیف اور سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے مارشل لا بہتر نہیں ہوگا اور پاکستان میں جمہوریت کوکوئی خطرہ نہیں ہے تاہم اصلاحات بے حد ضروری ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن سے پہلے پاکستان آؤں گا اور انتخابات میں حصہ بھی لوں گا جو لو گ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں فوج کے کندھوں پرسوارہو کر پاکستان آؤں گا وہ غلطی پر ہیں، میں عمران خان کی طرح دعوے نہیں کرتا جنہوں نے 2002 میں کہا تھا کہ100 نشستیں جیتوں گا لیکن ایک سیٹ لے سکے تھے اور آئندہ بھی ناکام رہیں گے۔ادھر مشرف کے ریمارکس پررد ِعمل ظا ہر کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف پاکستان میں قدم جمانے کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔انہوں نے سماجی رابط ویب سائٹ ٹویٹر پر تحریر کرتے ہوئے کہا ’مشرف پاکستان میں قدم جمانے کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں ‘۔انہوں نے قومی میڈیا کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ اب کچھ نیوز چینلیں اور اینکر اس شخص کا انٹر ویو کرنے کیلئے اپنے آپ کو روک سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہوسکتا ہے کہ کچھ نیوز چینلیں اور اینکر اس شخص کا انٹر ویو کرنے سے خود کو روک سکتے ہیں ،کیو نکہ یہ صاف ظاہر ہے پاکستان میں قدم جمانے کیلئے وہ(مشرف) کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔ نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مشرف کے بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ ’یہ تنظیم(لشکرطیبہ) ان ہی کی پیداوار ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مسلح تنظیموں وجود میں لاکر دوسروں کے لئے قبر کھودی تھی لیکن وہ خود ہی اس قبر میںگر گئے۔یو این آئی کے مطابق فاروق عبداللہ بدھ کو سرینگر میں مشرف کے بیان کے ردعمل میںکہا’’ میری ان سے ایک ہی التجا ہے کہ خدا کے واسطے ان تنظیموں کو مت بڑھاوا دیجئے، جو نہ صرف پاکستان کو برباد کریں گی بلکہ ساتھ ساتھ دنیا کو بھی برباد کریں گی‘‘۔

Comments are closed.