پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی پر امریکہ متفکر, برصغیر کے حالات پر ٹرمپ انتظامیہ کی کڑی نگاہ /امریکی سفیر
سرینگر ؍28نومبر ؍ الفا نیوز سروس
/١مریکہ نے آج واضح اشارہ دے دیا کہ ہندوپاک تعلقات میں بریک تھرو کیلئے ڈونالڈ ٹرمپ کوئی بھی رول ادا کرنے کیلئے تیار ہیںاور اس سلسلے میں امریکی صدر عنقریب دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کیساتھ رابط کریں گے کیونکہ امریکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی انہونی کا انتظار نہیں کر سکتا ۔اس کا انکشاف آج ٹرمپ کابینہ کی ایک سینئر ممبرنیکیہیلےنے ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔انہوںنے ہندوپاک کشیدگی کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی فوری بحالی ناگزیر بن گئی ہے کیونکہ دونوں طرف سے جو کشیدگی بڑھ رہی ہے وہ کسی بھی طور پر امن پر اختتام ہوتی نظر نہیں آتی ہے لہذا ہمیں بغیر کسی انہونی کا انتظار کئے بغیر ہی دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات بحال کروانے ہونگے ۔امریکی سفیر نے خبردار کیا کہ امریکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی انہونی کا انتظار نہیں کرسکتا ہے بلکہ اسے قبل ہی حالات کو قابو میں رکھوانے کی کوشش کریگا ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا صدر ٹرمپ ہندوپاک تعلقات کے حوالے سے باخبر ہیں اور کوئی رول ادا کرنے کی کوشش میں ہیں تو انہوںنے کہا کہ ہندوپاک دو نیوکلیائی طاقتیں ہیں اور امریکہ دو نیوکلیائی طاقتوں کے درمیان تصادم کے حق میں نہیں ہوسکتا ہے ۔انہوںنے اشارہ دیا کہ امریکی صدر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کیلئے کوئی بھی رول اد ا کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنی اس جگہ کو تلاش کر رہی ہے جہاں وہ دونوں ممالک کو قریب لانے میںکامیاب ہو جائیگی ۔انہوںنے کہاکہ ہمیں انہونی کا انتظار نہیں کرنا ہوگا بلکہ مسائل کو حل کرنے کی جانب امن مذاکرات کی بحالی کو ترجیح دینا ہوگی ۔الفا نیوز سروس کو معلوم ہو اہے کہ ٹرمپ انتظامیہ میںایک سینئر کابینہ وزیر نے اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ عنقریب ہندوپاک تعلقات مین بہتری لانے کیلئے ثالثی شروع کریگا ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے جس میں ٹرمپ انتظامیہ کوئی رول اد ا کر سکے ۔ انہوںنے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے امریکہ شروع سے ہی کام کرتا رہا ہے اور سابق حکومتوں کے دور میں بھی امریکہ نے کئی مواقعوں پر ہندوپاک کوجنگ کی دہلیز سے واپس لایا اور سابق حکومتوں نے بھی اس سلسلے میںاپنا کردار ادا کیا ہے ۔انہوںنے اعتراف کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشمیر ایک مسئلہ ہے اور اس معاملے پر دونوں ممالک کو باہمی طور پر کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کرناہوگی لیکن اس کے باوجود بھی ٹرمپ انتظامیہ معاملات سے بے خبر نہیں ہے بلکہ ہر حال میں امریکہ چاہتا ہے کہ برصغیر میں کسی بھی قسم کی کوئی انہونی نہ ہو ۔انہوںنے کہا کہ برصغیر میںنیوکلیائی ٹکراو خطے کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے لہذا ایسے میں یہ لازمی ہے کہ حکومت بدلنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ بھی دونوں ممالک کو قریب لانے کیلئے ایک طریقہ کار کے تحت کام کریگی اور ایسے میں ٹرمپ انتظامیہ کسی بھی طرح کا رول ادا کرنے کیلئے تیار ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوپاک کو قریب لانے میں امریکہ کے ڈپلومیٹ بھی سرگرم رہے ہیں اورایسے میں اگر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی کوئی مداخلت کریں گے تواس کے مفید اثرات مرتب ہونگے ۔انہوںنے کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ خطے میں استحکام لانے کیلئے ہندوپاک کے درمیان بریک تھرو کیلئے کام کریں گے اور بہت جلد وہ عنقریب دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کیساتھ رابط قائم کریں گے ۔انہوںنے کہا کہ اگر چہ درپردہ طور پر دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کا کوئی فقدان نہیں ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان بہت جلد رابط قائم کیا جائیگا ۔ ٹرمپ کابینہ کی سینئر وزیر ،ممبر کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ خطے میں کسی بھی تصادم کے حق میں نہیں ہے بلکہ وہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو ترجیح دے رہی ہے ۔ٹرمپ انتظامیہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی استحکام لانے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے تاکہ برصغیر کے حالات کو دیکھتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ متحرک ہوگئی ہے اور وہ خطے میں کشیدگی کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کیلئے اپنا رول ادا کریگی ۔ٹرمپ کابینہ کی ممبر نیکی ہیلے کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو آپسی طور پر مذاکرات کیلئے کام کرنا چاہئے اور اپنے بند پڑے سفارتی تعلقات کو بحال کرنے چاہیں تاکہ حالات کو بہتر بنایا جا سکے ۔یہ پہلا موقعہ ہے کہ جب ٹرمپ کابینہ کی کسی وزیر یا ممبر نے ہندوپاک تعلقات پر کھل کر بات کی ہو اور اس میں ٹرمپ انتظامیہ کی دلچسپی ظاہر کی ہو۔اسے پہلے ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اور ممبر نے صاف کر دیا تھا کہ ہندوپاک کے درمیان کشمیر مسئلہ باہمی طور پر حل کیا جاسکتا ہے اور اس میں امریکہ براہ راست ثالثی نہیں کر سکتا ہے جبکہ دیگر کئی ایک ممبرا ن نے بھی اس سے پہلے کشمیر مسئلے پر بات کی تھی ۔ایسے میں حالات کو بہتر بنانے کیلئے ٹرمپ انتظامیہ اپنا اثر رسوخ قائم ضرور کریگی ۔
Comments are closed.