تہاڑ جیل میں سیاسی قیدیوں کی مارپیٹ قابل مذمت
ایسی حرکت سے شبیر شاہ سمیت تمام کشمیری نظر بندوں کی زندگیوں کوخطرہ لاحق 

سرینگر/28نومبر/

فریڈم پارٹی نے تہار جیل میں13 کشمیری سیاسی قیدیوں سمیت18قیدیوں کی مار پیٹ اور اُنہیں بری طرح زخمی کئے جانے کیخلاف شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کو ایک غیر مہذب حرکت قرار دیا ہے۔ پارٹی نے بھیجے گئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس سنگین حرکت کی وجہ سے مذکورہ جیل میں مقید جملہ کشمیری قیدیوں بشمول علیل پارٹی چیئر مین شبیر احمد شاہ کی زندگیاں خطرے میں مبتلا ہوئی ہیں۔پارٹی بیان میں کہا گیا ہے کہ جیل کے اندر قیدیوں کو مارنا پیٹنا اور جسمانی اذیت پہنچانا ایک شرمناک حرکت ہے جس کیخلاف عالمی حقوق اداروں کو راست اقدام کرنے چاہیں۔فریڈم پارٹی نے کشمیری قیدیوں کی حالت زار پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دلی کے بد نام زمانہ تہار جیل کے اندر جس طرح قیدیوں کو ہراساں کیا جارہا ہے اُس کیخلاف متعلقہ اداروں کو فوری توجہ دینی چاہئے۔پارٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تہار جیل میں قیدیوں پر تشدد ڈھانے کی اطلاعات ہمارے لئے پریشان کن ہیں۔ مذکورہ جیل کے اندر قیدیوں کو ایک نہیں تو دوسرے بہانے تنگ کیا جارہا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔پارٹی نے سید صلاح الدین کے فرزند ،شاہد یوسف، جو کہ اسی جیل کے اندر مقید ہیں، کو دیگر جیل ساتھیوں سمیت مارنے پیٹنے اور بری طرح زخمی کئے جانے پر فکر و تشویش کا اظہار کیا۔تہار جیل سے ملی اطلاعات کا تذکرہ کرتے ہوئے پارٹی بیان میں کہا گیا ہے کہ شاہد یوسف وغیرہ کو انتہائی سفاکی کے ساتھ مارا پیٹا گیا ہے جس کی وجہ سے اس جیل کے اندر مقید دیگر سیاسی قیدی، بشمول شبیر احمد شاہ کی زندگیاں غیر محفوظ ہوگئی ہیں۔پارٹی بیان میں کہا گیا ہے کہ شبیر شاہ پہلے ہی کئی عارضوں میں مبتلاء ہیں اور اب قیدیوں کو جسمانی طور نقصان پہنچانے کے حالیہ واقعہ نے اُن کے خیر خواہوں اور پارٹی کارکنان کو مزید تشویش میں ڈال دیا ہے۔فریڈم پارٹی نے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور عالمی ریڈ کراس جیسے اداروں پر زور دیا کہ وہ کشمیری قیدیوں کے متعلق اپنی طویل خاموشی کو توڑ کر اُن کا تحفظ یقینی بنانے میں عملی کردار ادا کریں۔

Comments are closed.