ہند پاک کشیدگی کیلئے تنازعہ کشمیر بنیادی وجہ
عالمی برادری کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت کیلئے آگے آئے /عباسی

 
سرینگر ؍28نومبر ؍ الفا نیوز سروس

تنازعہ کشمیر کو ہندوپاک کے درمیان بنیادی مسئلہ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے آج عالمی برادری پرپھر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کی جدوجہدآزادی کی حمایت کرے کیونکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو عملانے سے ہی مسئلہ کشمیر کا بہترین اور قابل قبول حل نکل سکتا ہے ۔تاہم انہوںنے خطے میں بھارت کی بالا دستی کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا اور بھارت کو کشمیر میں ظلم وستم بند کرنا چاہئے ۔ساتھ ہی ساتھ انہوںنے کہاکہ دونوں ممالک کو بنیادی تنازعہ ،مسئلہ کشمیر پر مذاکرات شروع کرنے ہونگے تاکہ دیگر مسائل خود بخود حل ہوجائیں ۔ وزیراعظم پاکستان نے صاف کر دیا کہ بھارت پاکستان کیلئے اب خطرہ بن گیا ہے لہذا ملک کی دفاعی صلاحیت مزید بڑھائی جائیگی ۔ الفا نیوز سروس کے مطابق پاکستانی وزیراعظم نے کہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی نے کشمیر مسئلے کو ہندوپاک کے درمیان تنازعات کی جڑ سے تعبیر کیا اور کہا کہ اس مسئلے کی وجہ سے ہی دونوں ممالک کے درمیان دیگر مسائل بھی حل نہیں ہوتے ہیں لہذا کشمیر مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق ہی حل کرنا ہونگے اور عالمی برداری پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے آگے آئے ۔انہوںنے عالمی برداری پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت کریں کیونکہ وہ کسی بھی طرح سے کوئی دہشت گردی نہیں ہے ۔انہوںنے کہاکہ کشمیریوں کیساتھ وعدے کئے گئے ہیں اور اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں وہ قرارداددیں موجود ہیں جن کو عملانے کیلئے اقوام متحدہ کو آگے آنا ہوگا۔انہوںنے واضح کر دیا کہ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی ،سماجی اور اخلاقی مدد جاری رکھے گا اورایسے میں کشمیریوں کی مدد کرنا پاکستان کا اخلاقی جواز بھی ہے ۔انہوںنے کہا بھارت کشمیر میں ظلم وستم کررہا ہے اور نسل کشی کا بھی مرتکب ہورہا ہے لہذا اس صورتحال کو بند کرنا ہوگا ۔انہوںنے کہاکہ جوں ہی مسئلہ کشمیر پر کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو دیگر مسائل کرنے میں راہیں کھل سکتی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا ہم مسئلہ کشمیر پر بھارت کیساتھ بات چیت کیلئے تیار ہیں لیکن ایسے معاملے پر برابری اور اعتماد کا ہونا لازمی ہے ۔تاہم انہوںنے خبردار کیاکہ خطے میں بھارت کی بالادستی کسی بھی اعتبار سے قابل قبول نہیں کیاجاسکتا ہے ۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھارت کو پاکستان کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بے پناہ جانی و مالی نقصانات اٹھائے اور ہم چاہتے ہیں کہ عالمی برادری ہماری قربانیوں کا اعتراف کرے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ میں جب حکومت سنبھالی تو حالات بہت مشکل تھے اور پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بے پناہ جانی و مالی نقصانات اٹھائے لیکن پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ حکومتی اقدامات کے باعث ہی پاکستان اسٹاک ایکسچینج دنیا کی بہترین مارکیٹس میں سے ایک بن چکی ہے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں امن اور جمہوریت کا ماحول چل رہا ہے، پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے ماحول سازگار ہے لہذا امریکی کمپنیاں پاکستان میں معاشی مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہوئی لیکن عالمی میڈیا پاکستان کی درست صورتحال نہیں دکھا رہا جب کہ پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اتحادی ہے اور امریکی صدر کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ افغانستان کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغان مسئلے کے حل کے لئے امریکا کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔شمالی کوریا کے نیوکلیئر پروگرام پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے نیوکلیئرپروگرام میں شمالی کوریا کی مدد نہیں کی جب کہ شمالی کوریا کے میزائل تجربوں پر تشویش ہے۔

Comments are closed.