پیاز اور ٹماٹرکی تجارت جب ہوسکتی ہے توبھارت پاکستان کرکٹ کیوں نہیں کھیل سکتے : شعیب اختر

اسلام آباد/18فروری: پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے بھارت اور پاکستان کے مابین دوطرفہ تعلقات کی بحالی کے لئے ایک بار پھر اپیل کی ہے۔ شعیب اختر کا خیال ہے کہ اگر ڈیوس کپ اور کبڈی میں دونوں ممالک کھیل سکتے ہیں تو پھر وہ کرکٹ کیوں نہیں کھیل سکتے۔ کشمیر نیوز ٹرسٹ مانیٹرنگ کے مطابق شعیب اختر نے اپنے یوٹیوب چینل پر سوال کیا ہے کہ اگر دونوں ممالک کی ٹیمیں ایک دوسرے کے ملک نہیں جانا چاہتیں توکسی غیر جانبدار وینو پر کھیل جاسکتاہے ، جیسا کہ وہ آئی سی سی یا ایشیا کپ کے دوران کرتے ہیں۔شعیب اختر نے کہا کہ پاکستان دنیا میں بہترین مہمان نواز ممالک میں سے ایک ہے جہاں ورندر سہواگ ، سچن ٹنڈولکر ، سوراو گنگولی جیسے کرکٹرز کو جس طرح پسند کیاجاتا ہے ،اس کی مثال دی جاسکتی ہے۔ہمارے درمیان اختلافات سے کرکٹ متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ امید ہے کہ بھارت اور پاکستان جلد ہی باہمی سیریز کھیلیں گے۔انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان سفر کے لئے ایک بہت ہی محفوظ جگہ ہے۔ انڈیا کی کبڈی ٹیم آئی ، انہیں بہت پیار ملا ، بنگلہ دیش بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے آیا۔ لیکن اگر پھر بھی شکوک و شبہات ہیں تو میں غیر جانبدار مقام کی تجویز پیش کرتا ہوں۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کرکٹ نہ ہو تو بھارت اور پاکستان کے مابین تمام تعلقات منقطع کردیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ تعلقات ختم کرنا چاہتے ہیں تو تجارت بند کریں ، کبڈی کھیلنا بند کریں۔ صرف کرکٹ ہی کیوں؟ یہ کرکٹ ہے۔ ہم اسے سیاسی بناتے ہیں تو بہت مایوسی ہوتی ہے۔ ہم پیاز اور ٹماٹر کی تجارت کرتے ہیں توپھر ہم کرکٹ کیوں نہیں کھیل سکتے۔

Comments are closed.