کچھ تنظیموں کے احتجاج کے بعد کرناٹکا میں پولیس نے پھر تین کشمیری طلبا کو کیا گرفتار

تینوں عدالت میں پیش ،2 مارچ تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا

سرینگر/17فروری: بائیں بازوں کے احتجاجی مظاہروںکے بعد کرناٹکا کے ضلع ہبلی میں رہائی کے کچھ ہی گھنٹوں بعد تین کشمیری طلبا کو ملک سے غداری کے معاملے میں پھر گرفتار کیا گیا جس کے بعد تینوں کو پیر کے روزعدالت میں پیش کیا گیا جس کے بعد انہیں 2 مارچ تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق ملک سے غداری معاملے میں پولیس نے کرناٹکا میں تین کشمیری طالب علموں کو گرفتار کیا گیا تھا ھس کے بعدتین کشمیری طلبا کو سی آر پی سی کے سیکشن 169 کے تحت بانڈ پر دستخط کے بعد رہا کیا تھا۔ لیکن طلبا کی رہائی کے خلاف ضلع ہبلی میں ہندو تنظیموں کے کچھ وکلا اور کارکنوں نے احتجاج کیا۔ اس کے بعد پولیس نے تینوں طلبا کو دوبارہ گرفتار کر لیا اور انہیں ہبلی عدالت میں پیش کیا۔تینوں طلبا جن کی شناختعامر، طالب اور باسط کرناٹک کے ہبلی شہر کے کے ایل ای انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں زیر تعلیم ہیں۔چارروز قبل کالج کے پرنسپل بساوراج عنامی نے ذرائع کو بتایا کہ ‘ہم نے صبح ویڈیو دیکھی، جس میں سے دو فرسٹ ایئر سول انجینئرنگ کے طلبا ہیں۔ ایک اور طالب علم سول انجینئرنگ کے 2nd ائیر میں پڑھ رہا ہے۔ تینوں طلبا کو آل انڈیا کوٹہ (آزاد نشست)کے تحت داخلہ ملا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں پتا چلا ہے ان تینوں کا تعلق جموں و کشمیر کے ضلع شوپیاں سے ہے۔پرنسپل کی طرف سے دائر کردہ شکایت پر ان کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 153 اے بی اور 124 اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیاتھا۔کالج میں احتجاج کے بعد انتظامیہ نے سالانہ کھیلوں کے مقابلوں کو روک کر سبھی طالب علموں کو گھر جانے کی اپیل کی تھی۔

Comments are closed.