سرینگر15 فروری//یو پی آئی // پونچھ سے وابستہ پی ڈی پی کے سابق ممبر اسمبلی نے پارٹی سے کنارہ کش ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ سینئرلیڈران کی پارٹی سے برطرفی پر اُنہیں کافی مایوسی ہوئی ۔ انہوںنے کانگریس نے اپنے دور میں 370قانون میں تین درجن ترامیم کیں لہذا یہ قانون مردہ بن چکا تھا۔ سابق ممبر اسمبلی نے الطاف بخاری کی پارٹی میں شامل ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے کہاکہ سبھی کارکنان اور لیڈروں سے گفت وشنید کے بعد ہی اس پر کوئی فیصلہ لیا جاسکتا ہے۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق سینئر پی ڈی پی لیڈر اور پونچھ حویلی کے سابق ممبر اسمبلی شاہ محمد تانترے نے پارٹی سے الگ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ جو کچھ بھی اس وقت صورتحال ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے پی ڈی پی سے الگ اُن کیلئے ضروری بن گیا تھا۔ انہوںنے کہاکہ دفعہ 370ایک مردہ قانون بن چکا تھا کہ کیونکہ کانگرنس نے اس آرٹیکل میں تین درجن دفعہ ترامیم کیں تھیں۔ انہوںنے کہاکہ کئی پی ڈی پی لیڈران کی ایل جی موصوف کے ساتھ ملاقات کے بعد اُن کو پارٹی سے نکالا گیا تاہم قواعد و ضوابط کے تحت اُنہیں پہلے وجہ بتاو نوٹس جاری کرنی تھی تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوںنے کہاکہ یہ سب کچھ دیکھ کر میرا جی بھر گیا اور پی ڈی پی سے کنارہ کش ہونے کا تبھی فیصلہ لیا تھا۔ الطاف بخاری کی نئی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں تانترے نے کہاکہ سبھی لیڈران اور کارکنان سے گفت وشنید کے بعد ہی اس بارے میں کوئی فیصلہ لیا جا سکتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ایل جی مرمو یا مرکزی وزراءکے ساتھ ملاقات کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ہمیں لوگوں کی بات کو آگے پہنچانے کی خاطر وزراءسے ملاقات کرنی ہی پڑے گی۔ انہوںنے کہاکہ جموںوکشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے ضمن میں مرکزی وزراءسے بات چیت کرنے کے سوا اور کوئی راستہ ہی نہیں ہے۔ تانترے کا مزید کہنا تھا کہ بات چیت سے ہی لوگوں کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ جموںوکشمیر میں حالات کو معمول پر لانے کی خاطر سبھی کو آگے آنا چاہئے تاکہ مرکزی حکومت پر دباو ڈال کر جموںوکشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ بحال ہو سکے۔ انہوںنے کہاکہ نیشنل کانفرنس کی آٹونامی اور پی ڈی پی کا سیلف رول کھوکھلے نعرے تھے اب ہمیں اس سے آگے بڑھنا چاہئے تاکہ جموںوکشمیر میں قیام امن کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکے۔ انہوںنے کہاکہ سابق وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید کے چلے جانے کے بعد پی ڈی پی پھوٹ کا شکار ہو گئی اور سب سے بڑی غلطی سابق وزیر خزانہ حسیب درابو کو پارٹی سے نکالنے سے پوری ہوئی ۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.