فیس بک ایسی مجبوری اور کم زوری بن چکی ہے ،جس سے دوری اسے استعمال کرنے والوں کو گوارانہیں

فیس بک سماجی طور پر ایس ایسا آلہ اُبھر کر آیا ہے جس نے روزمرہ کی زندگی میں اب اپنا مقام بنایا

سرینگر : فیس بُک اب مجبوری بن گئی ہے ۔ اکثر لوگ اس کو اپنی شہرت بڑھانے کیلئے بھی استعمال کرتے ہیںجبکہ اپنا پیغام دوسروں تک پہنچانے کیلئے فیس بُک اب سستا اور آسان ذریعہ بن گیا ہے جس کے بغیر اب لوگ رہنا پسند نہیں کریں گے ۔بہت سے خواتین وحضرات تو صرف اس لیے باہر جاکر کچھ کھاتے ہیں تاکہ فیس بک پر اس کھانے کی تصویر شیئر کرکے یہ ثابت کریں کہ ان کے لیے اچھا کھانا زندگی کا اہم ترین موقع ہے۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق فیس بک چلانا اور اس پر آن لائن رہنا اب لوگوں کیلئے مجبوری بن گئی ہے ۔ فیس بک پر زیادہ وقت گزارنا اگرچہ ماہرین نے نقصان دن قراردیا ہے تاہم اس کے باوجود بھی لوگ فیس بک پر آن لائن رہتے ہیں اور بات بات پر اپنے تاثرات پیش کرتے رہتے ہیں ۔ نیویارک یونیورسٹی اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے مشترکہ تحقیق کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ فیس بک صارفین اس وقت زیادہ خوش، زندگی سے مطمئن اور ذہنی بے چینی، ڈپریشن یا تنہائی سے کسی حد تک محفوظ ہوتے ہیں جب وہ ایک ماہ کے لیے اس سوشل نیٹ ورک سے دوری اختیار کرلیں۔اور واپسی کے بعد ان تمام فوائد کے لیے فیس بک کا استعمال پہلے کے مقابلے میں کم کرنا بھی ضروری ہے۔محققین کچھ کہیں، مگر فیس بک ایسی مجبوری اور کم زوری بن چکی ہے جس سے دوری اسے استعمال کرنے والوں کو گوارا نہیں۔ بہت سے خواتین وحضرات تو صرف اس لیے باہر جاکر کچھ کھاتے ہیں تاکہ فیس بک پر اس کھانے کی تصویر شیئر کرکے یہ ثابت کریں کہ ان کے لیے اچھا کھانا زندگی کا اہم ترین موقع ہے۔ بیمار محض اس لیے پڑتے ہیں کہ ایف بی پر اپنی بیماری کی اطلاع دے سکیں۔ سو جیسے ہی چھینک آتی ہے، طبعیت کی ناسازی کی خبر کے ساتھ دعائے صحت کی درخواست پوسٹ کردی جاتی ہے۔ سابق کونسلر سے بھی کہیں ملاقات ہوجائے تو اس سے چپک کر سیلفی بنوائی اور فیس بْک پر لگائی جاتی ہے۔یہ سب ’’حرکات‘‘ اتنے لوگ اور اس قدر تواتر سے کرتے ہیں کہ کمنٹ کرنے والا کچھ نیا کہنے کے چکر میں پڑنے کے بجائے گِنے چْنے کمنٹ کرکے جان چْھڑاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے کاپی پیسٹ کا سہارا بھی لیا جاتا ہے۔ ایسے میں بعض اوقات غلطی سے بیماری کی پوسٹ پر ’’ماشاء اللہ‘‘ کے کمنٹ آجاتے ہیں، انتقال کی اطلاع پر ’’مبارک ہو‘‘ لکھ دیا جاتا ہے اور شادی کی سال گرہ کا اسٹیٹس ’’اللہ صبرِ جمیل عطا کرے‘‘ کا تبصرہ وصول کرتا ہے۔اس کے علاوہ فیس بْک۔۔۔ شوہر کی حرکات وسکنات پر نظر رکھنے، رشتے داروں کی پوسٹ لائک نہ کرکے ان سے کسی تقریب میں سیدھے منہہ بات نہ کرنے کا انتقام لینے، جسے شادی میں نہ بلانا ہو اسے کارڈ ان باکس میں دے کر ٹرخانے، علامہ اقبال، فیض اور فراز کی شاعری کا بیڑا غرق کرنے، پوسٹوں کے ذریعے اپنی بات بھونڈے طریقے سے دوسروں تک پہنچانے۔۔۔اور نہ جانے کس کس کام ا?تی ہے، تو اس سے دوری کتنی ہی ضروری ہو مگر محققین کی یہ خواہش پوری ہوتی نظر نہیں آتی ۔

Comments are closed.