این آئی اے چھاپہ ماری بلاجواز ،مسئلہ کا حل تشدد میں نہیں،سہ فریقی بات چیت میں مضمر
سرینگر /یکم مارچ / موجودہ صورتحال کے حوالے سے مفتی اعظم جموں وکشمیر مفتی ناصرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کی سرکار جس طر ح منفی اقدام اٹھارہی ہے اس سے امن نہیں بلکہ تشدد میں اضافہ ہورہا ہے ۔انہوں نے جماعت اسلامی جموں وکشمیر پر پابندی عائد کرنے اور اس کو غیر قانونی قرار دینے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ایک مذہبی وسیاسی تنظیم ہے اور یہ دعوت وتبلیغ کے کام میں مصروف عمل ہیں ۔اس تنظیم پر پابندی لگانااور اس کے اداروں کو مقفل کرنا ہر اعتبار سے افسوسناک ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس حرکت سے عوامی حلقوں ،مذہبی اور سیاسی گلیاروں میں تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے ۔انہوں نے بھارت کی موجودہ حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ مثبت سوچ رکھتے ہوئے جاری کردہ حکم نامہ کوکالعدم قرار دیں اور گرفتار شدہ ارکان جماعت کی رہائی کو یقینی بنائیں ۔تاکہ خطے میں مزید افراتفری کا ماحول پیدا نہ ہوسکے ۔مفتی ناصر الاسلام نے کہا کہ مزاحمتی قائدین وکارکناں کے گھروں پر (این آئی اے) کی چھاپہ ماری اور ان کے گھر میں موجود جائیداد کو تہس نہس کرنابحر صورت غیر اخلاقی طرز عمل ہیانہوں نے کہا کہ سر کارکی طرف سے اٹھائے جارہے اس طرح کے اقدام سے افراتفری اور ہراسانی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا جبکہ ان کشیدہ حالات کوقابو میں لانے کیلئے بامعنی بات چیت ہی واحد راستہ ہے ۔انہوں نے بھارت کے حکمرانوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کیلئے راہ ہموار کریں اور پاکستان سمیت کشمیریوں کے حقیقی نمائندوںو عسکری جماعتوں کو اس میں شامل کریں اور نیک نیتی کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار اور پُرامن حل نکالنے میں کلیدی رول ادا کریں ۔تاکہ مزید نہتے اور بے گناہ لوگوں کی جانیں تلف ہونے بچ جائیں ۔انہوں نے کہا کہ خون خرابہ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہے بلکہ امن وسلامتی کیلئے بات چیت ہی لازمی ہے ۔انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ نت نئے حربے آزمانے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ہے بلکہ اس سے آئے روز تشدد میں اضافہ ہورہا ہے اور کہا کہ اگر اسی طرح منفی حربے اپنائے گئے تو اس کے منفی نتائج ہی برآمد ہوسکتے ہیں ۔انہوں نے ہندوپاک کے درمیان رونما ہوئے جنگی حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو ہمسایہ ملکوں کو آپس میں لڑناکسی کے مفاد نہیں ہے اور جنگ تباہی ہے جبکہ مسائل کا حل صرف بات چیت میں ہی مضمر ہے ۔انہوں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور اس کی حکومت کی خیر سگالی جذبہ کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گرفتار شدہ بھارتی پائیلٹ کو اعزازی طور رہا کیا انہوں نے اس کو خوش آئند اور غیر معمولی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہوا کہ پاکستان جنگ نہیں بلکہ بات چیت کے ذریعے ہی امن کا حامی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح وزیر اعظم ہند نریندر مودی کو اپنے طریقہ میں لچک لانی چاہئے تاکہ خطے میں پھیلی بدامنی وافراتفری کا خاتمہ ہوجائے ۔مفت ناصرالاسلام نے اپنے بیان میںآرٹیکل 35Aمیں ترامیم کی کوشش کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ آرٹیکل ریاست جموں وکشمیر کے تشخص اور انفرادی حیثیت کیلئے ایک معنی رکھتا ہے اور اس کے ساتھ چھیڑ خوانی کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوگی ۔انہوں نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 35A کی ترمیم کے بارے میں سوچا بھی نہ جائے اور کہا کہ اگر اس میں کسی قسم چھیڑ خوانی کی جائے گی تو ریاست ہر مکتب فکر کے لوگ سڑکوں پر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریںگے ۔
Comments are closed.