سرینگر/: خواتین کیلئے بیت الخلاء شہر سرینگر کے مضافات میں ہونے کی اشد ضرورت ہے، مگر آج تک انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں ۔ریاستی حکومت کوبس اڈوں ،پارکوں اور شہر کے بڑے بازاروں کے ارد گرد خواتین بیت الخلاء بنانے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ابھی تک سرینگر مضافاتی علاقوں کے بازاروں میں بیت الخلاء کی عدم موجودگی سے خاص طور پر خواتین کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق متعلقہ حکام کی عدم دلچسپی کی وجہ سے صنف نازک اور طلاب کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔شہر اور اس کے مضافاتی علاقوں کے بازاروں ،بس اڈوں ،پارکوں میں بیت الخلاء کی عدم دستیابی لوگوں کے لیئے ذہنی اضطراب کی وجہ بن چکی ہے کیونکہ ان علاقوں میں رفاہ حاجت کیلئے استعمال میں لائے جانے والی بیت الخلاء تعمیر نہیں کئے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں سرینگر کے سب سے بڑے بس اسٹینڈ بٹہ مالو اور پانتھ چوک میں بھی پاخانوں کی زبردست قلت پائی جارہی ہے ۔جس کی وجہ سے بسوں میں سفر کرنے والے خواتین مسافروں کو خاص طور پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ایک فیلڈ آفیسر نے سی این آئی کو بتایا کہ اس بس اڈے میں بیت الخلاء نہ ہونے کے برابر ہے اور یہ کہ اگر چہ دو بیت الخلاء پہلے تعمیر کرائے گئے تھے مگر ان کی حالت بالکل خستہ ہوچکی ہے بلکہ مسافروں کا دباؤ دیکھ کر وہ ناکافی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بارے میں اگرچہ کئی بار متعلقہ ایجنسیوں اورانتظامیہ سے رابطہ قائم کیا گیا تاہم آج تک کوئی بھی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی ۔مزید بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسافر اور ٹرانسپورٹ اڈے یعنی کہ بٹہ مالو اور پانتھ چوک اڈہ میں کام کرنے والے دیگر لوگ کھلے میں پیشاب کرنے کیلئے مجبور ہوتے ہیں جو نہ صرف بیماریوں کا سبب بن رہا ہے بلکہ کشمیری اقدار اور روایت کے منافی بھی ہے ۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.