کشمیریوں اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد قابل مذمت
سرینگر: مرکزی سرکار کو آرٹیکل 35Aکے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے بہار کے وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ آرٹیکل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے کشمیر میں حالات مزید خرا ب ہوسکتے ہیں اور ملٹنسی میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار کو چاہئے کہ ریاست سے ملٹنسی کے خاتمہ کی طرف دھیان دینا چاہئے ۔ کشمیریوں پر حملوں کے بارے میں نتیش کمار نے کہا ہے کشمیریوں اور مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کارروائیوں پر روک لگنی چاہئے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق آرٹیکل 35Aکے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کو ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ قراردیتے ہوئے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے مرکزی سرکار کو مشورہ دیا ہے کہ کہ وہ دفعہ 370کو کاالعدم کرنے کی کوششوں ترک کریں اور ریاست جموں و کشمیر میں جاری ملٹنسی کے خاتمہ کی طرف توجہ دیں اور اس کیلئے تمام تر ضروری اقدامات اُٹھائیں ۔ بہار کے چیف منسٹر نے کہا کہ آرٹکیل 35Aکے ساتھ کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ سے کشمیر کے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں اور ملٹنسی میں اضافہ ہوسکتا ہے اسلئے ریاست کو حاصل خصوصی اختیار سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور کشمیری اور مسلمان بھارتی شہری ہیں اسلئے ان کے خلاف تشدد آمیز واقعات قابل مذمت ہے ۔ نتیش کمار نے کہا کہ پلوامہ واقع کی وجہ سے ہر کوئی شہری غم زدہ ہوا ہے اور اس کا دکھ مسلمانوں کو بھی ہے اسلئے دیش کے مسلمانوں اور کشمیریوں کے خلاف نفرت کی کوئی جوازیت نہیں ہے ۔ایک نیشنل انگریزی روزنامہ میں شائع ایک خبر میں انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر دفعہ 370اور آرٹیکل 35Aکو ختم کرنے کے حق میں نہیں ہوں انہوں نے کہا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور اس دفع سے اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ بلکہ اس کو چھیڑنے سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں ۔
Comments are closed.