مرکزی سرکا ر سمیت 11ریاستوں کو نوٹس، ماب مالچینگ کیلئے مقرر نوڈل آفسیروں پر کشمیریو کی حفاظت کی ذمہ داری
ریاست جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر کیا اطمینان کااظہار
سرینگر/22فروری/سی این آئی/ سپریم کورٹ نے پلوامہ حملے کے تناظر میں ملک کے مختلف حصوں میں کشمیری شہریوں کے خلاف ہو رہے پرتشدد واقعات اور سماجی بائیکاٹ پر روک یقینی بنانے کے لئے مرکزی حکومت اور 11 ریاستوں کو جمعہ کے روز ہدایت جاری کی۔ادھر ریاست جموں و کشمیر کے سابقہ وزراء اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز عدالت عظمیٰ کے اس حکم کا خیر مقدم کیا جس کے تحت ملک کی گیارہ ریاستوں کے چیف سیکریٹریوں اورپولیس کے سربراہوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ کشمیریوں کے تحفظ کے لئے فوری اور ضروری اقدام کریں۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق سپریم کورٹ آف انڈیا نے پلوامہ حملے کے تناظر میں ملک کے مختلف حصوں میں کشمیری شہریوں کے خلاف ہو رہے پرتشدد واقعات اور سماجی بائیکاٹ پر روک یقینی بنانے کے لئے مرکزی حکومت اور 11 ریاستوں کو جمعہ کے روز ہدایت جاری کی۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی قیادت والی بنچ نے وکیل طارق ادیب کی عرضی کی سماعت کرتے ہوئے یہ ہدایت دی۔ کورٹ نے کہا کہ ماب لنچنگ کے واقعات سے نمٹنے کے لئے مقرر نوڈل آفیسر کشمیری شہریوں کے خلاف ہونے والے زیادتی اور حملوں کے معاملات کی بھی نگرانی کریں گے۔سپریم کورٹ نے ان نوڈل افسران کے بارے میں تفصیلی معلومات عام شہریوں تک پہنچانے کے لئے تشہر و تبلیغ کا انتظام کرنے کے واسطے وزارت داخلہ کو ہدایت دی۔ غور طلب ہے کہ عرضی گذار نے گزشتہ روز معاملے کا خصوصی ذکر کیا تھا اور کورٹ نے اس کی جلدی سماعت کے لئے آج یعنی جمعہ 22فروری کی تاریخ مقر ر کی تھی۔ادھر ریاست جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز عدالت عظمیٰ کے اس حکم کا خیر مقدم کیا جس کے تحت بھارت کی گیارہ ریاستوں کے چیف سیکریٹریوں اورپولیس کے سربراہوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ کشمیریوں کے تحفظ کے لئے فوری اور ضروری اقدام کریں۔واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ میں پلوامہ خود کش حملہ کے بعدبھارت کی مختلف ریاستوں میں مقیم کشمیریوں پر مبینہ حملوں کے خلاف دائر عرضی پر جمعہ کے روز سماعت ہوئی ، جس دوران عدالت عظمیٰ نے گیارہ ریاستوں کے چیف سیکریٹریوں، پولیس سربراہوں اور دہلی کے پولیس کمشنر کے نام ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ کشمیریوں اور دیگر اقلیتی فرقوں کے لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے فوری اور ضروری اقدام کریں۔سی این آئی کے مطابق نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ کا مشکور ہوں کہ اس ادارے نے وہ کام کیا جو دہلی میں منتخب قیادت کو کرنا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ فروغ انسانی وسائل کے مرکزی وزیر ابھی انکار کرنے میں ہی مشغول تھے اور گورنر دھمکیاں دینے میں ہی مصروف تھے کہ عدالت عظمیٰ نے مداخلت کی۔پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے عدالت عظمیٰ کے اس فیصلہ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ریاست کشمیری طلبہ کی ہراسانی اور ان کیخلاف سوشل بائیکاٹ پر روک کو یقینی بنانے کے لئے عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے تسکین حاصل ہوئی ہے۔یاد رہے کہ رواں ماہ کی 14تاریخ کو لیتہ پورہ پلوامہ میں ہوئے ایک فدائین حملے میں سی آر پی ایف کے کم سے کم 49اہلکار ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد بھارت کی مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم طلبہ اور کاروبار کی غرض سے مقیم کشمیریوں کے خلاف ہندو انتہا پسندوں نے مورچہ کھولتے ہوئے کشمیریوں کا جینا حرام کررکھا تھا جس کی وجہ سے کشمیری اپنے کمروں میں محصور ہوکے رہ گئے تھے اس دوران درجنوں کشمیریوں کو لہو لہا ن کیا گیا اور یہ سلسلسہ ہنوز جاری ہے ۔
Comments are closed.