کشمیریوں کو بھارت کے شہروں میں کاروبار بند کرنے کا مشورہ
جلندھر یونیورسٹی سے ایک کشمیری پروفسیر کو نوکری سے بے دخل کردیا گیا
ٹرین میں’ پتھرباز‘ کہہ کر ہجوم نے کشمیریوں کو پیٹا، بولے۔ روزی روٹی کے لئے کیوں آتے ہو یہاں
سرینگر /21فرور ی / سی این آئی لیتہ پورہ واقع کے ایک ہفتے بعد بھی بھارت کے شہروں میں کشمیریوں پر حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔دلی کے روہیلا رمیں دورن سفر ٹرین میں تین کشمیریوں کا زد کوب کیا گیا ۔ جبکہ اپنا لاکھوں روپے کا مال ٹرین میں ہی چھوڑ کر جان بچاکر بھاگ گئے ۔ریلوے پولیس نے اس سلسلے میںکیس درج کرلیا ہے ۔ ادھر جلندھر یونیورسٹی میں بطور پرفیسر کشمیری شخص کو یونیورسٹی انتظامیہ نے نوکری سے بے دخل کرلیا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق لیتہ پورہ پلوامہ حملے کے ایک ہفتے بعد بھی بھارت کی مختلف ریاستوں میں کشمیری طلبہ ،تاجروں ، ملازمین اور دیگر افراد کو مار نے پیٹنے ، دھمکی دینے اور گالیاں دینے کے علاوہ مختلف طریقوں سے ہراساںکرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ تازہ واقع میں دلی کے سرائے روہیلا اسٹیشن پر تین شال بیچنے والے کشمیریوں نے الزام لگایا کہ کچھ نامعلوم لوگوں نے ’ پتھرباز‘ کہہ کر ان کی پٹائی کر دی۔ اس ہنگامہ میں بھیڑ بھی حملہ آوروں کے ساتھ شامل ہو گئی۔اس بارے میں ڈی سی پی (ریلوے) دنیش گپتا نے بتایا، ‘ہریانہ کے سانپلا جانے کے لئے شال بیچنے والے تین کشمیری نوجوان ایک لوکل ٹرین میں سوار ہوئے تھے۔ اسی وقت کچھ نوجوانوں نے انہیں گندی گالیاں دینا شروع کر دیں اور جب انہوں نے اعتراض کیا تو نوجوانوں نے کہا کہ تم وہاں پتھر پھینکتے ہو اور روزی-روٹی کے لئے یہاں آتے ہو۔ اس کے بعد وہ تینوں کشمیری نوجوان اپنا بیگ چھوڑ کر نانگلوئی میں ہی اتر گئے۔ بیگ میں تقریبا دو لاکھ روپیے کی قیمت کی شال تھی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کیس درج کر لیا گیا ہے۔ تحقیقات کی جا رہی ہے۔کشمیریوں نے الزام لگایا کہ کچھ نامعلوم لوگوں نے ’ پتھرباز‘ کہہ کر ان کی پٹائی کر دی۔ اس ہنگامہ میں بھیڑ بھی حملہ آوروں کے ساتھ شامل ہو گئی۔کشمیریوں نے بتایا کہ وہ پچھلے سال تجارت کے سلسلے میں دسمبر میں دہلی آئے تھے اور تبھی سے وہ سرائے روہیلا میں رہ رہے تھے۔ گزشتہ دس سالوں سے وہ یہاں کاروبار کرتے آئے ہیں، لیکن اب تک انہیں کبھی بھی اس طرح کا سلوک نہیں جھیلنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ ان کو بلوائیوں نے دھمکی دی ہے کہ یہاں سے چلے جائو اور یہاںکروبار کرنے دوبارہ نہیں آنا ۔بیرون وادی کشمیروں پر حملوں کے بعد بھارت کے مختلف شہروں میں رہنے والے کشمیری خوف و دہشت کے ماحول میں ہیں اور گذشتہ ایک ہفتے سے اپنے کمروں میں محصور ہوکے رہ گئے ہیں جبکہ کئی جگہوں پر باہر سے ان کے کمروں پر پتھر برسائے جانے کی بھی اطلاع موصول ہوئی ہے ۔ ادھر لولی پروفشنل یونیورسٹی میں تعینات کشمیری پروفیسر کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا جبکہ اس کے کمرے کے بعد ہندو انتہا پسندوں نے لوہے کی سلاخوں اور دیگر ہتھیاروں سے حملہ کرکے اس کو کشمیر لوٹنے کو کہا جس کے بعد پنجاب پولیس نے پروفیسر کی جان بچاکر اس کو تحفظ فراہم کیا۔ پروفیسر سلمان شاہین لولی پروفیشنل یونیورسٹی جلندھر میں بطور پروفسیر اپنے فرائض انجام دے رہا تھا اور 14فروری کو لتہ پورہ واقع کے بعد مختلف بہانوں سے ہراساں کیا گیا ۔ پروفسیر کے مطابق یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے وٹس اپ پر کشمیریوں کے خلاف گندی گالیاں تحریک کی تھیں جس کے جواب میں میں نے لکھا کہ نازیبا الفاظ استعمال کرنے اور اشتعال کے بجائے ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ پیار اور ہمدردی کے ساتھ رہنا چاہئے ۔ جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے مجھے یونیورسٹی سے استعفیٰ دینے کو کہا ۔ استعفیٰ دینے کے محض ایک گھنٹے بعد ہی جب شاہین اپنے کمرے میں پہنچے تو ہندو انتہاء پسندوں کی ایک جمعیت لوہے کی سلاخوں اور دیگر ہتھیاروں سمیت اس کو گندی گندی گالیاں دیں اور اس کو جان سے مارنے کی دھمکی دی ۔ اس بیچ پنجاب پولیس وہاں پہنچی جنہوںنے مذکورہ پروفیسر کو بحفاظت وہاں سے نکالا اور اس کو تحفظ فراہم کیا۔
Comments are closed.