پلوامہ حملے کے بعد بیرون وادی کشمیریوں کے خلاف تشدد آمیز واقعات میں اضافہ

بلوائیوں نے کولکتہ میں ایک کشمیری تاجر کو لہولیان کیا ، بیرون وادی کشمیری خوف میں مبتلاء

سرینگر/20فروری/سی این آئی/ مغربی بنگال میں شال کا کاروبارکرنے والے ایک کشمیری تاجر کے کرائے کے کمرے میں گھس کے انتہاء پسندوں نے اس کو لہو لہان کرکے کشمیری تاجر کو زبردستی ’’بھارت ماتا کی جے‘‘کہنے پر مجبور کررہے تھے۔ بلوائیوں کی جانب سے کشمیری تاجر کا زد کوب کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے ۔اس دوران مغربی بنگال پولیس نے کہا ہے کہ تاجر کو بچالیا گیا ہے اور وہ محفوض ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام سے تعلق رکھنے والا ایک کشمیری شال کا کاروبار کرنے اول تاجر بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں بلوائیوں کے ہاتھوں تشدد کا تازہ شکار بنا ہے۔کشمیری شالوں کا کاروبارکرنے والا جاوید احمد خان ساکنہ آستانپورہ محلہ سویہ بگ، کو دوران شب بلوائیوں کے ہاتھوں انتہائی بے رحمی کے ساتھ مارا پیٹا گیا۔یہ واقعہ مغربی بنگال کے نادیہ ضلع میں تاہر پورہ علاقے میں پیش آیا۔جاوید کو تشدد کا نشانہ بنانے سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں اْنہیں ناک سے خون بہتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے اور اْن کو دی جانے والی بلوائیوں کی گندھی گالیاں بھی صاف طور سے سنی جاسکتی ہیں۔ویڈیو میں جاوید کو ’’وندے ماترم‘‘اور بھارت ماتا کی جے بھولنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔جاوید کے ایک قریبی رشتہ دار نے ایک مقامی انگریزی روزنامہ کو بتایا کہ وہ اپنے ایک اور قریبی رشتہ دار ، معراج الدین کے ساتھ رات نو بجے کے قریب اپنے کرایہ کے کمرے میں تھے کہ اْن پر حملہ ہوگیا۔انہوں نے مزید کہا کہ جاوید اور معراج نے لیتہ پورہ حملے کے بعد سے کشیدگی کی وجہ سے اپنی دکان بند ہی رکھی تھی لیکن گذشتہ رات بلوائی اْن کے کرایہ کے کمرے تک پہنچ گئے اور اْن پر حملہ آؤر ہوئے۔اس واقعہ کے ایک گھنٹہ بعد وہاں پولیس پہنچ گئی۔انہوں نے کہاپولیس نے جاوید کو بچالیا لیکن اس سے قبل ان کا زد و کوب کیا گیا تھا۔جاوید ،سویہ بگ بڈگام کے اْن بیسیوں افراد میں شامل ہیں جو مغربی بنگال میں شال کا کاروبار کررہے ہیں ۔پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ،جاوید گذشتہ دس برس سے کولکتہ آتا جاتا رہا ہے۔کولکتہ پولیس کے سب انسپکٹر اوجیت بسواس نے بتایا کہ جاوید اب حفاظت سے ہے۔انہوں نے کہا’’ہم نے اْنہیں ایک محفوظ مقام تک پہنچایا ہے اور وہ بالکل سلامت ہیں۔ ہم حملہ کرنے والوں کو ڈھونڈ رہے ہیں‘‘۔اس واقع کے بعد مغربی بنگال کے مختلف جگہوں پر شال کا کاروبارکرنے والے کشمیری تاجر خوف و ہراس میں مبتلاء ہوچکے ہیں اور اپنے کمروں سے باہر آنے میں ڈر اور خوف محسوس کررہے ہیں ۔ سی این آئی کے مطابق پلوامہ واقع کے بعد بھارت کے مختلف شہروں میں کشمیری طلبہ ، تاجروں اور دیگر افراد کو ہراساں کئے جانے کے واقعات میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے ۔ اگرچہ ریاستی انتظامیہ نے بیرون وادی کشمیریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے سلسلے میں اقدامات اُٹھائے ہیں اور مرکزی سرکار نے بھی کشمیریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے ایڈوائزری جاری کی ہے تاہم اس طرح کے واقعات میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کے نتیجے میں کشمیری عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔

Comments are closed.