ایک روزہ ہڑتال کے بعد ضلع پلوامہ کو چھوڑ کر کشمیر میں ایک روزبعد معمولات بحال

بازاروں میں غیر معمولی بھیڑ ،ٹریفک کی آمد رفت کے ساتھ ساتھ تجارتی سرگرمیاںبھی بحال

سرینگر/18فروری /سی این آئی/ جموں اور بیرون ریاستوں میں کشمیریوں کو ہراساں کرنے اور املاک کو نقصان پہنچنے کے خلاف وادی کشمیر میں ایک روز ہ ہڑتال کے بعد ضلع پلوامہ کو چھوڑ کر وادی کشمیر میں زندگی معمول پر آگئی۔ایک روز بعد کاروباری سرگرمیاں بحال ہونے سے بازاروں میں غیر معمولی بھیڑ دیکھنے کو ملی۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جموں اور بیرون ریاستوں میں کشمیریوں پر حملے اور انہیں ہراساں کرنے کی کارروائی کی خلاف تاجر انجمنوں کی طرف سے دی گئی ہڑتال کی کال کے باعث وادی کشمیر میں اتوار کے روز ہڑتال اور بندشیں رہی ۔ ایک روز ہ ہڑتال کے بعد سوموار کوضلع پلوامہ کو چھوڑ کر وادی کشمیر میں معمولاتی زندگی دوبارہ بحال ہوئی جس کے ساتھ ہی کاروباری اور ٹرانسپورٹ سرگرمیاں شروع ہوئیں جبکہ حکام نے دوران شب ہی پولیس او فورسز کی تعیناتی ہٹادی تھی۔نمائندے کے مطابق ایک روز ہ ہڑتال کے بعد دکانیں اور کاروباری مراکز کے ساتھ ساتھ سکول اور سرکاری و غیر سرکاری دفاتر میں معمول میں سرگرمیاں شروع ہوئیں اور ٹریفک کی روانی بھی بحال ہوگئی۔ اس دوران لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے بازاروں کا رْخ کیا اور اشیائے ضروریہ کی خریداری کی جس کے نتیجے میں اہم بازاروں میں لوگوں کی غیر معمولی بھیڑ اور چہل پہل نظر آئی۔ادھر وادی کے دیگر علاقوں میں مکمل ہڑتال کے بعد سوموار کو دوبارہ سے تجارتی و کاروباری سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوئی جبکہ ٹریفک بھی معمول کے مطابق جارہی رہا ۔ادھر پلوامہ سے ملی اطلاعات کے مطابق پنگلنہ علاقے میں فورسز اور جنگجوئوں کے مابین خونین معرکہ آرائی کے پیش نظر ضلع کے بیشتر علاقوں میں ہڑتال اور بندشوں کا نفاذ عمل میں رہا جس کے نتیجے میں تمام تجارتی و کاروباری سرگرمیاں متاثر رہی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی غائب رہی ۔

Comments are closed.