سرینگر/: پلوامہ حملے کے بعد پاک بھارت تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں اورپاکستان نے نئی دہلی میں تعینات ہائی کمشنرکو مشاورت کے لیے اسلام آباد طلب کرلیا ہے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق پلوامہ میں فدائین حملے میں پچاس کے قریب سی آر پی ایف اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف پاکستان اور بھارت کے مابین پہلے سے کشیدہ تعلقات میں بگڑ گئے ہیں ۔ اس دوران پاکستان نے نئی دلی میں تعینات ہائی کمشنر کو واپس بلایا ہے ۔ اس ضمن میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرپرترجمان پاک دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارت سے اپنے ہائی کمشنر سہیل محمود کو واپس بلا لیا۔ ہائی کمشنر کی طلبی کا مقصد مشاورت کرنا ہے۔ سہیل محمود آج صبح دہلی سے روانہ ہوئے ہیں۔پاکستان اور ہندوستان کے مابین سفارتی سطح پر بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ۔ واضح رہے کہ 14فروری کولیتہ پورہ پلوامہ میں ایک سی آرپی ایف کانوائی پر فدائین حملے میں کم سے کم پچاس کے قریب سی آر پی ایف اہلکاروں کی موت واقع ہوئی تھی جس کے بعد بھارت نے اس واقعے پر پاکستان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقع کے پیچھے پاکستانی فوج ہے اور یہ حملہ پاکستانی فوج کی منصوبہ بند سازش کا نتیجہ ہے ۔ حملے کے بعد بھارت بھرمیں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور پاکستان کے خلاف کارراوئی کا مطالبہ کیا گیا ۔دوسری جانب بھارت نے سری نگر مظفر آباد بس سروس اچانک معطل کردی ہے۔ بھارت نے رات گئے سری نگر مظفرآباد بس سروس معطل کرنے کی اطلاع پاک زیر انتظام کشمیرحکام کو دی جب کہ معطلی کی وجوہات نہیں بتائی گئی۔ بس سروس معطلی سے ایل او سی کے دونوں جانب سفر کرنے والے مسافر شدید سردی میں پریشان ہوگئے۔ اس لئے لاہور سے پیر کے روز دوستی بس کے ذریعے صرف 11 مسافر بھارت روانہ ہوئے ان میں بڑی تعداد بھارتی شہریوں کی تھی جب کہ دہلی سے 16 مسافروں کو لے کر دوستی بس لاہور پہنچے گی۔ریاستی حکومت نے پاک زیر انتظام کشمیرکے ساتھ باہمی تجارت بھی روک دی ہے جس کی وجہ سے آج چکوٹھی بارڈرکے راستے لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کشمیرمیں تجارت بھی نہیں ہوسکی ہے۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.