جموں اور دیگر شہریوں سے واپس آئے ڈرائیورو ں نے ٹی آر سی میں کیا زبردست احتجاج
سرینگر/17فروری/سی این آئی/ جموں میں کشمیری ڈرائیورں کا زد کوب کرنے اور کشمیر کی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کے خلاف آج سرینگر جموں شاہراہ روٹ پر چلنے والے ڈرائیوروں نے ٹی آر سی سرینگر میں احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کشمیریوں پر حملے بند نہیں کئے گئے تو تمام ڈرائیور اور تاجر سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مہم چھیڑ دیں گے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق لیتہ پورہ پلوامہ میں فدائین حملے کے بعد بھارت کی مختلف ریاستوں میںکشمیری طالب علموں ، تاجروں اور ڈرائیورں کا زد کوب کرنے اور ان کو دھمکیاں دینے کی کارروائیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جبکہ جموں میں درجنوں گاڑیوںکو آگ کی نذر کرنے اورکشمیروں کازد کوب کرنے کے بعد اگرچہ پولیس اور انظامیہ نے جموں کے کئی جگہوں پر کرفیوکا نفاذ عمل میں لایاتھا تاہم کرفیو کے باوجود بھی گذشتہ روز کشمیری ڈرائیوں کی گاڑیاں جو جموں بس سٹینڈ میں کھڑا تھیں کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ کئی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کا زد و کاب کرنے کے علاوہ ان کو لوٹا گیا ۔ اس واقع کے خلاف جموں سے واپس آئے کشمیری ڈرائیوروںنے آج ٹی آر سی سرینگر میں زبردست احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے کہا کہ دلی ، اجمیر اور دیگر شہروں سے واپس آنے والے کشمیری ڈرائیوں کی جو گاڑیاں جموں بس سٹینڈ میں موجود تھی ان پر گذشتہ شام جموں کے بلوائیوںنے حملہ کرکے گاڑیوں کے شیشے چکنا چور کئے جبکہ کشمیری ڈرائیوروں کا بھی زد کوب کیا گیا ۔ اس دوران مظاہرین میں شامل کئی ڈرائیوروں نے بلوائیوں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تلاشی لی گئی اور جیبوں میں جو رقومات تھیں وہ بھی بلوائی لے گئے ۔ انہوںنے کہا کہ اس صورتحال سے اگرچہ جموں پولیس کو آگاہ کیا گیا تھا تاہم انہوںنے بلوائیوںکے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں کی ۔ جس کی وجہ سے کشمیری ڈرائیوں اور دیگر کشمیری افراد میں اور زیادہ خوف وہشت پھیل گیا۔ سہمے اور ڈرے ہوئے کشمیری ڈرائیوروںنے اپنی آنکھوں سے آنسوئوں کا سلاب جاری کرتے ہوئے درد بھری آواز میں کہا کہ آخری ہمارا کا قصور تھا کیا ہم کشمیری مسلمان ہیں یہی ہمارا قصور ہے کہ آئے روز کشمیریوںکو تنگ و طلب کیا جاتا ہے ۔ احتجاجی ڈرائیورں نے کہا ہے کہ اگر یہ سلسلہ فوری طور پر بند نہیںہوا تو تمام ڈرائیور اور تاجر ایک ساتھ سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مہم چھڑینے کیلئے تیار ہوجائیں گے اور اُس صورت میں جوبھی حالات پیدا ہوں گے اُس کیلئے ریاستی انتظامیہ اور بھارتی سرکار ذمہ دار ہوگی ۔واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے جمعرات کو لیتہ پورہ پلوامہ میں ایک فدائین حملے میں سی آر پی ایف کے کم سے کم 49اہلکار از جان ہوئے جس کے بعد بھارت بھر میں کشمیریوں پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا جبکہ کئی جموں میں کشمیریوں کی درجنوں گاڑیوں کو آگ لگائی گئی اور درجنوں گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی گئی ۔
Comments are closed.