پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا رکھنے کیلئے سفارتی سطح پر سرگرمیاں تیز کی جائیں گی
سرینگر: پلوامہ لیتہ پورہ واقع کے بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف خارجی اور سفارتی سطح پر مہم تیز کرنے کیلئے تیاریاں شروع کردی گئی ہیں اور ابتدائی مرحلے میں بھارت نے پاکستان سے ’’پسندید ملک کا درجہ ‘‘واپس لیا ہے ۔جبکہ نئی دلی میں اس حوالے سے ایک اہم ترین میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا ہے کہ پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر مہم چھیڑ دی جائے گی ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیرکے ضلع پلوامہ میں لتہ پورہ میں گذشتہ روز ہوئے جنگجوئیانہ حملے میں کم سے کم 49سی آر پی ایف اہلکار ہلاک ہوئے ۔اس واقع کے خلاف بھارت بھر میں سخت غم غصے کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ کئی جگہوں پر پاکستان مخالف جلوس نکالے گئے جن میں پاکستان کے پرچموں کو نذر آتش کردیا گیا ۔ ادھر بھارت نے پاکستان کے خلاف داخلہ اور سفارتی سطح پر مہم چھڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کرنے کیلئے سفارتی کوششیں تیز کردی جائیں گی ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بھارت نے جمعہ کو پاکستان سے’’پسندیدہ ملک کا درجہ‘‘واپس لے لیا۔ یہ اقدام جنوبی کشمیر کے لیتہ پورہ پانپور میں عسکریت پسندوں کے حملے کے اگلے روز کیا گیا۔ اس حملے میں کم سے کم49فورسز ہلکار ہلاک ہوگئے۔ذرائع کے مطابق نئی دلی میں سیکورٹی سے متعلق کابینہ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں ملوث افراد کو قانون کے دائرے میں لانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا ’’پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کیلئے سفارتی کوششیں تیز کی جارہی ہیں‘‘۔بھارت نے بہت پہلے پاکستان کو”پسندیدہ ملک کا درجہ” دے رکھا تھا، جو آپسی تجارت سے متعلق ہے تاہم پاکستان نے ابھی بھارت کو یہ درجہ نہیں ہے۔بھارت کا الزام ہے کہ لیتہ پورہ حملے میں پاکستان ملوث ہے۔اس حملے میں مزید چار سی آر پی ایف اہلکاروں کے دم توڑنے سے مرنے والے فورسز اہلکاروں کی تعداد49ہوگئی ہے۔
Comments are closed.