ویڈیو: مقبول بٹ کی برسی پر ہڑتال سے زند گی کا پہیہ جام

لالچوک، پائین شہراور شمالی کشمیر کے بعض علاقوں میں بند شیں۔ما ئسمہ میں مارچ ناکام گرفتار

سرینگر11فروری /سی این ایس / لبریشن فرنٹ کے بانی مرحوم محمد مقبول بٹ کی35ویں برسی پرمزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی ہڑتال کال کانمایاں اثر رہا جس کی وجہ سے عام معمولات بری طرح متاثر رہے جبکہ، تجارتی مرکز لالچوک، پائین شہراور شمالی کشمیر کے بعض علاقوں میں بندشیں عائد رہیں اور سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بڑی حد تک غائب رہا ۔اس دوران پولیس نے مائسمہ سرینگر میں علیحدگی پسندوں کی ایک ریلی کو ناکام بناتے ہوئے متعدد کارکنان کی گرفتاری عمل میں لا ئی ہے۔سی این ایس کے مطا بق لبریشن فرنٹ کے بانی مرحوم محمد مقبول بٹ کی 35ویں برسی کی مناسبت سے مزاحمتیاور عسکر ی قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتال اوراحتجاجی پروگراموں کے پیش نظر غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے کے اندیشے کو مد نظر رکھتے ہوئے پولیس نے گذ شتہ دو ونوں کی طرح ہی کل بھی شہرخاص اور مائسمہ علاقہ میں دفعہ 144 کے تحت بدشیں عائدرہیں۔ یاد رہے کہ35سال قبل یعنی1984میں کل ہی کے دن لبریشن فرنٹ کے بانی محمد مقبول بٹ کو دلی کی تہاڑ جیل میں تختہ دار پر لٹکایا گیا تھا۔ محمد مقبول بٹ کی جسد خاکی اْن کے لواحقین کو نہیں سونپی گئی تھی اور اْنہیں جیل احاطے میں ہی سپرد خاگ کیا گیا ۔سرینگر میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر صبح سے ہی سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے اوراس مقصد سے مائسمہ اور پائین شہر میں صبح سے ہی سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے حساس علاقوں میں پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں کو تمام ضروری ساز و سامان سے لیس کرتے ہوئے تعینات کر دیا گیا تھا۔ متعدد علاقوں میں اہم سڑکوں اور چوراہوں کو مکمل طور سیل کردیا گیا تھا جس کے نتیجے میں لوگوں کو اپنی منزلوں پر پہنچنے کے لئے سخت مراحل سے گذرنا پڑا۔ہڑتال کے دوران شہر سرینگراور وادی کے دیگر قصبہ جات میں تمام دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے البتہ ٹرانسپورٹ کی نقل وحر کت کچھ حد تک جاری تھی۔ ہڑتال کے دوران ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظرپائین شہر کے اکثرعلاقوں میں دم امتناعی کو سختی کے ساتھ نافذ کیا گیا تھا اور ان علاقوں میں لوگوں کی نقل وحرکت پر پابندی عائد رہی اور فورسزکے اضافی اہلکاروں نے اپنے نرغے میں لے رکھا تھا۔ پائین شہرکے رعناواری ، نوہٹہ ، خانیار ، مہاراج گنج ، صفا کدل اورکرالہ کھڈپولیس تھانوں کے حدود میںآنے والے علاقوں کو خار دار تاروں سے سیل کر کے رکھ دیا گیا تھا جبکہ سیول لائنز علاقوں کے ساتھ جوڑنے والے راستوں اور پْلوں کو سیکورٹی فورسز نے مکمل طور سیل کیا تھا۔ لوگوں کی نقل وحرکت کو روکنے کیلئے فورسز اہلکاروں کو چپے چپے پر تعینات کیا گیا تھا۔دھر سیول لائنز کے حساس پولیس تھانہ مائسمہ کے حدود میں بھی لوگوں کی نقل وحرکت کو روکنے کیلئے حکم امتناعی نافذ کیا گیا تھا اوراس علاقہ میں تار بندی کی گئی تھی جبکہ ممکنہ احتجاج کے پیش نظر شہر میں حفاظت کے سخت انتظامات کئے گئے تھے جس کیلئے پولیس اور سی آر پی ایف کی اضافی تعداد سڑکوں پر تعینات رہی۔سول لائنز کے لال چوک ، بڈشاہ چوک، ریگل چوک ، مولانا آزاد رو،اور دیگر علاقوں میں بھاری پولیس بندوبست کیا گیا تھا اور بڈشاہ چوک میں واقع اکھاڑہ بلڈنگ کے اردگرد بھی پولیس اور سی آر پی ایف کا سخت پہرہ بٹھایا گیا تھاجبکہ شہر میں حساس مقامات پر بھی پولیس کی نفری تعینات کی گئی تھی۔ ناربل ایچ ٹی میں سنگ باری کے واقعات پیش آ ئے۔ ادھرکپوا ڑہ میں ہمہ گیر ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی جبکہ ترہگام میں نماز ظہر کے بعد لو گو ں نے ایک جلوس نکا لا اور آزادی اور اسلام کے حق میں نعرہ بازی کی۔جلوس میں ترہگا م اور اس کے مضافاتی علاقوں سے آئے ہو ئے لو گو ں نے کا فی تعداد میں شرکت کی۔محمد مقبول بٹ کے گھر واقع تر ہگام میں دن بھر لو گو ں کا تا نتا بندھا رہا اور مرحوم کے حق میں د عائے مجلس کا انعقاد کیا۔جس دوران لوگوں نے مین چوک تر ہگام تک ایک جلوس نکا لا۔ویلگام،کرالہ پورہ ،سو گام اور دیگر مقا مات پر ہڑتال کی گئی۔سی این ایس نمائندئے نے پٹن سے اطلاع دی ہے کہ پلہالن میں زبردست ہڑتال کی گئی ۔سڑکوں چوراہوں اور پلوں پر پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری تعداد تعینات رہی۔شما لی قصبہ سوپور میں دوسر ے روز فورسز اور پولیس کی اضافی کمک تعینات کی تھی جس کی وجہ سے قصبہ میں معمولات زند گی درہم برہم ہوکے رہ گئی ۔ ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب اور دکانیں و دیگر تجارتی ادارے بند رہے قصبہ میں سیکورٹی کے سخت انتظام کئے گئے تھے جبکہ اکثر مقامات پر پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کی تھیں۔بارہمولہ میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے پہلے ہی حساس علاقوں میں پولیس اور فورسز کے اضافی دستے تعینات کئے گئے تھے جس دوران دکانیں ،کاروباری ادارے اور اسکول و دفاتر بند رہنے سے ان علاقوں کی سڑکوں پر سکوت رہا اور بازار ویران پڑے رہے۔ بانڈ ی پور ہ ،سمبل پٹن ،ٹنگمر گ ، اور وسطی کشمیر کے بڈ گا م ، گا ندر بل ،کنگن اور دیگر مقا ما ت پر ہڑ تال کی وجہ سے عام زند گی متا ثر رہی جس کے دوران ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب اور دکانیں و دیگر تجارتی ادارے بند رہے ۔جنوبی کشمیر کے اننت نا گ ،اچھ بل ، ویری ناگ ، ککرناگ عشمقام ،آرونی اورڈورو میں مکمل بند رہا جس کے دوران ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب اور دکانیں و دیگر تجارتی ادارے بند رہے۔کولگام کے علاوہ کھڈونی ،کیموہ ،یاری پورہ ،دیوسر ،قاضی گنڈ اور دھمال ہانجی پورہ میں مکمل ہڑتال رہی اور فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔ پلوامہ نپور، کھریو، شوپیان، ترال، اونتی پورہ ، پلوامہ ،لاسی پورہ شاہورہ ا ور کاکہ پورہ وغیرہ کے مقامات پردکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد رفت بھی متاثر ہوکر رہ گئی تھی ۔ادھر وادی کے دیگر قصبہ جات میں بھی دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سرکاری ونیم سرکاری اور پرائیویٹ دفاتروں میں کوئی کام وکاج نہیں ہوسکا ۔ہڑتا ل کی وجہ سے سرکاری دفاتروں میں ملازمین کی حاضری پر بھی اثر پڑا۔ تمام دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے جبکہ ان علاقوں میں ٹریفک کی آمدورفت بھی مکمل طو رمعطل ہوکے رہ گئی۔بانڈی پورہ، سمبل،گاندربل، بڈگام،چاڈورہ اور دیگر علاقوں میں سخت ترین سیکورٹی کی وجہ سے معمول کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ اس دوران پولیس نے سرینگر میں سوموار کو علیحدگی پسندوں کی ایک ریلی کو ناکام بناتے ہوئے متعدد کارکنان کی گرفتاری عمل میں لائی۔اس احتجاجی ریلی کا اہتمام مشترکہ مزاحمتی قیادت نے لبریشن فرنٹ کے بانی محمد مقبول بٹ کی 35ویں برسی کے موقع پر مرحوم کی باقیات لوٹانے کے حق میں کیا تھا۔درجنوں کارکنان شہر کے مائسمہ علاقے میں جمع ہوئے جنہوں نے مرحوم مقبول بٹ اور مرحوم افضل گورو کی باقیات لوٹانے کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے مارچ کیا۔عینی شاہدین کے مطابق علاقے میں تعینات پولیس و فورسز اہلکار وں نے احتجاج کرنے والوں کا رستہ روک کر اْنہیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی اور متعدد کی گرفتاری عمل میں لاکر مارچ کو ناکام بنایاہے۔

Comments are closed.