ویڈیو: لاچوک میں مشترکہ مزاحمتی قائدین کا احتجاج، کئی اراکین گرفتار
۔ مقبولؒ و افضل کی اجساد خاکی و باقیات کی کشمیر واپسی کا مطالبہ
سرینگر: یوم مقبولؒ کے موقع پر آج مشترکہ مزاحمتی قیادت سے وابستہ متعدد قائدین و اراکین کو اسوقت لال چوک سے گرفتار کرلیا گیا جب وہ اولین قائد تحریک آزادی شہید محمد مقبول بٹ اور مجاہد شہید محمد افضل گورو جنہیں بھارتی استعمار نے 11؍ فروری 1984 ء اور 09؍ فروری 2013 ء کو بالترتیب تختہ دار پر شہید کیا تھا کی اجساد خاکی اور باقیات کی بھارتی حراست سے خلاصی اور انہیں کشمیریوں کے سپرد کئے جانے کے مطالبے کو لے کر احتجاجی مظاہرہ کررہے تھے۔جن قائدین و اراکین کو اس موقع پر گرفتار کرلیا گیا ہے اُن میں شیخ عبدالرشید ،امتیاز احمد شاہ،پروفیسر جاوید،جاوید احمد بٹ،فیاض احمد لون،عبدالرشید لون، ارشاد عزیز،شاکر احمد آہنگر،مختار احمد اور امتیاز احمد گنائی کے ساتھ ساتھ کئی خواتین جن میں مسلم خواتین مرکز می سربراہ یاسمین راجہ،دلشادہ اختر،افروزہ بانو، نسیمہ اختر قابل ذکر ہیں ۔ اس سے قبل مشترکہ قیادت سے وابستہ قائدین و اراکین زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں جن میں کئی خواتین بھی شامل تھیں کے ہمراہ جے کے ایل ایف کے دفتر مائسمہ کے نزدیک جمع ہوگئے جہاں سے انہوں نے لال چوک کی جانب مارچ شروع کیا۔ پولیس نے اس احتجاج کو روکنے کیلئے لال چوک اور گردونواح کے علاقے سیل کردئے تھے اور خار دار تار اور رکاوٹیں کھڑی کرکے سارے آنے جانے کے راستء بند کردئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ ہر گلی اور نکڑ پر پولیسی پہرہ بٹھادیا گیا تھا لیکن سخت ترین کرفیو، قدغنوں اور رکاوٹوں ،گرفتاریوں نیز شبانہ و روزانہ چھاپوں اور دوسرے مظالم کے باوجود مشترکہ قیادت سے وابستہ رضاکار لوگوں کی بڑی تعداد کے ہمراہ ہاتھوں میں شہید محمد مقبول بٹ اور شہید محمد افضل گورو کی تصاویر اور پلے کارڈ تھامے نیز شہداء کی باقیات کے کشمیر واپسی کیلئے فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہوئے جب بڈشاہ چوک کے قریب پہنچے تو وہاں پہلے سے تعینات پولیس اور فورسز کی بھاری تعداد نے ان کا راستہ روک لیا اور سخت مزاحمت کے بعد کئی قائدین و اراکین کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کردیا۔گرفتاری سے قبل قائد شیخ عبدالرشید نے میڈیا اور مظاہرین سے خطاب کیا اور کہا کہ تحریک ساز قائد اور نظریہ ساز شہید محمد مقبولؒ بٹ اور عظیم مجاہد محمد افضل گورو کو غیر قانونی طریقے پر تختہ دار کی سزا دے کر اور پھر ان دونوں کو شایان شان کفن دفن کے حق تک سے محروم کرکے بھارتی حکمرانوں نے ظلم و جبر کی انتہا کردی ہے ۔ شہید محمد مقبولؒ بٹ کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہید محمد مقبول بٹ اور شہید محمد افضل گورو کی تختہ دار پر شہادت دراصل عدل و انصاف کا خون تھا جو اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے والے بھارت کے اصل چہرے کو عیاں و بیان کرچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان دونوں شہداء کی باقیات کو کشمیریوں کے حوالے کردینے سے بھارت کا مسلسل انکار دراصل ثابت کرتا ہے کہ بھارت ان شہداء کی اجسادخاکی تک سے خائف ہے ۔پوری وادی کو کرفیو اور قدغنوں نیز دوسرے مظالم سے تنگ طلب کرنے کی مذمت کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ مشترکہ قیادت کے 9؍ اور 11؍ فروری کے پروگراموں کو سبوتاژ کرنے کیلئے سری نگر، کپوارہ ، سوپور اور دوسرے مقامات پر کرفیو اور قدغنیں عائد کردی گئیں تھیں ، مزاحمتی قائدین و اراکین کو گرفتار کرنے کی غرض سے ان کے گھروں پر شبانہ چھاپوں کو بھی جاری رکھا گیا جب کہ بزرگ و علیل قائد سید علی شاہ گیلانی بدستور خانہ نظر بند ہیں نیزقائد میرواعظ ڈاکٹر محمد عمر فاروق سمیت کئی دوسرے قائدین کو بھی خانہ نظر بند کرنے کے علاوہ قائد محمد یاسین ملک کوبھی کئی روز قبل سے ہی حراست میں لیا جاچکاہے ۔ اس کے علاوہ دوسرے قائدین و اراکین بشمول محمد اشرف صحرائی، شوکت احمد بخشی، نور محمد کلوال، محمد سلیم ننھا جی،مشتاق اجمل ،بلال احمد صدیقی، محمد یاسین بٹ ،غلام محمد ڈار، بشیر احمد بویا ، گلزار احمد پہلوان ،فیاض احمد،سید امتیاز حیدر، محمد یاسین عطائی، شکیل؛ احمد بٹ ،محمد یوسف بٹ وغیرہ کو بھی خانہ نظر بند یا قید کیا گیا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس موقع پر میڈیا سے وابستہ لوگوں میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام رقم کی گئی یادداشت کی کاپیاں بھی تقسیم کی گئیں جس کا متن حسب ذیل ہے۔
Comments are closed.