ویڈیو: ریاستی انتظا میہ لوگوں کے روزمرہ کے مسائل حل کر نے میں ناکام: میرواعظ
ریاست کو باقی دنیا سے ملا نے والی تمام قدرتی راستوں کو کھولنے کا مطالبہ
سرینگر: حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے ریاستی انتظا میہ کو ہر سطح پر ناکام اور اس برفیلے موسم میں بجلی ،پانی جیسے لوگوں کے روزمرہ کے مسائل کے حل کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے وہاں یہ حکومت صرف ایک ہی کام میں پیش پیش ہے اور وہ CASO کی آڑ میں یہاں کے نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ ، ان کو اپنے عتاب کا نشانہ بنانا اور انہیں طاقت اور قوت کے بل پر پشت بہ دیوار کرنا اور جس کا مظاہرہ آج صبح بانڈی پورہ میں اُس وقت نظر آیا جبکہ برف کی وجہ سے تمام راستے مسدود ہونے کی بنا پر لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے تھے وہاں لوگوں کے بچانے اور ان کو راحت پہنچانے کے بجائے CASO کی آڑ میں پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔ سی این ایس کے مطابق مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے اس بات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا کہ ریاستی انتظامیہ کی جانب سے شہر و دیہات میں لوگوں کے تئیں مکمل بے حسی اورسنگدلی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا خراب موسمی صوتحال کی وجہ سے لوگ پچھلے دو مہینوں سے انتظامی سطح پر کسی بھی طرح کے سہولیات سے محروم ہیں اور لوگ انتہائی مشکلات سے دوچار ہونے کے ساتھ ساتھ اشیائیہ ضروریہ کی فراہمی سے بھی محروم ہیں۔میرواعظ نے کہا کہ ہنگامی صورتحال سے نپٹنے کا لائحہ عمل دور کی بات ہے کشمیری عوام بجلی اور پینے کے پانی جیسے بنیادی سہولیات کے بغیربیشتر مقامات پر زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا حالیہ دنوں پیش آئے واقعہ جس میں سڑک بند ہونے کی وجہ سے ایک حاملہ خاتون اور اس کے بچے کو جان سے ہاتھ دھونا پڑاایک ایسا دلخراش واقعہ ہے جس نے انسانیت کو جھنجوڑکے رکھدیا ہے۔میرواعظ نے جموں وکشمیر کو باقی دنیا سے ملا نے والی تمام قدرتی راستوں کو کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف جہاں کشمیر کو باقی دنیا سے جوڑنے والے تمام زمینی راستے سرکار کی جانب سے بند کئے گئے ہیں وہیں دوسری جانب جموں سرینگر شاہراہ کے بند ہونے سے وادی کا باقی دنیا سے زمینی رابطہ منقطع ہوجاتا ہے اور شاہراہ پر ہر سال ہزاروں کی تعداد میں مسافروں ،خواتین اور بچوں کو بنیادی ضروریات کے بغیر درماندہ ہونا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا جموں سرینگر شاہراہ کے بند ہونے سے نہ صرف مسافروں کو اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ وادی میں بھی ضروری اشیاء کی سپلائی بند ہوجانے سے ایک بحرانی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے یہاں کے فطری اور پُرانے راستے کھولنے سے ہی بچا جاسکتا ہے۔ میرواعظ نے کہاالمیہ یہ ہے کہ اس مشکل صورتحال میں ہوائی سفر کے کرایہ میں بے تحاشہ اضافہ کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا جموں سے سرینگر 40,000 روپے ہوائی کرایہ کھلم کھلا لوٹ ہے حقیقت یہ ہے کہ اتنی رقم میں عام دنوں میں نیویارک کا ہوائی سفر طے کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے حالیہ برف باری اور برفانی تودے گرآنے کی وجہ سے قیمتی جانوں کے زیاں پر گہرے رنج و دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثر ین کے اہل خانہ کیساتھ اپنی گہری ہمدردی و یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے برف باری کی وجہ سے بڑے پیمانے پر وادی بھر ہوئے نقصان پر افسوس کا اظہار کیاہے۔ میرواعظ نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ریاستی انتظامیہ کی عوامی مصیبتوں میں قطعی عدم دلچسپی اور بے حسی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بحرانی صورتحال میں ایک دورسرے کی مدد کیلئے سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کشمیریوں کی عظیم روایت رہی ہے کہ مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کیلئے اپنے آپ کو مہیا رکھتے ہیں جیسا کہ ہم نے 2014 کے تباہ کن سیلاب کے دوران دیکھا۔
Comments are closed.