ویڈیو: وادی میں سفید سونامی نے اہلیان وادی کو مشکل میں دھکیل دے دیا

قاضی گنڈ کنڈ میں 2005والٹینگو ناڈ کی یاد تازہ ، برفانی تودے گرآئے 52کنبوں نے کی نقل مکانی
کھاگ بڈگام اور گاندربل میں درجنوں کنبوں کے افراد کو بچالیا گیا، کئی مکانات بھاری برف سے ڈہہ گئے

Highway closed, Airtraffic suspended, electricity snapped as Snowfall continues for second day

Watch: Highway closed, Airtraffic suspended, electricity snapped as Snowfall continues for second dayRead The Full Story Here: https://bit.ly/2Dg6OTL

Posted by Tameel Irshad on Wednesday, 6 February 2019

سرینگر: سفید سونامی کی ز د میں آنے والے سات کنبوں کو حفاظت کے ساتھ محفوظ مقام پر پہنچاکر ان کی جان بچائی ہے ۔ کھاگ بڈگام میں جمعرات کی شب یہ واقع پیش آیا ہے ہے ۔ادھ جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ میں نگین پورہ ناڑ کنڈ میں آج جمعرات کی صبح 2بھاری بھرکم برفانی تودے گرآئے جس کی وجہ سے علاقہ میں رہنے والے لوگوں میں کافی تشویش کی لہر دوڑ گئی اور خوف دہشت کے عالم میں 52کنبوںنے اپنے آشیانوں کو چھوڑ کر ہجرت کو ترجیح دی جنہیں قاضی گنڈ کے مقامی لوگوںنے اپنے گھروں میں پناہ دی ہے ۔ادھر گاندربل کے گنڈ علاقے میں بھی درجنوں کنبوں کو بحفاظت محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا گیا ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی میں سفید سنامی نے اپنا قہر بپا کیا ہے جس کی وجہ سے وادی کے مختلف علاقوں میں مکانان ، بجلی کے کھمبے ، پُل اور درخت گر گئے ہیں ۔جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ قصبہ میں نگین پورہ ناڑ کنڈ نامی گائوں میں آج جمعرات کی صبح بھاری بھرکم برفانی تودے گرآئے جس کے نتیجے میں وہاں رہنے والے لوگوں میں کافی دہشت اور خوف کا ماحول پیدا ہوگیا ہے ۔ اس دوران علاقہ نے 52کنبوں پر مشتمل سینکڑوں افراد نے اپنے آشیانوں کو چھوڑ کر ہجرت کو ترجیح دیتے ہوئے نقل مکانی کی ہے ۔ سی این آئی ذرائع نے بتایا کہ نگین پورہ ناڑ قاضی گنڈ میں رہنے والے وہ لوگ ہیں جو 2005میں کنڈ قاضی گنڈ میں آئی برفانی سونامی سے متاثرہ تھے اور اُس وقت درجنوں مکانات برف کے تودوں کی زد میں آکر زندہ دفن ہونے والوں میں 250افراد لقمہ اجل بن گئے تھے اور انہیںکنبوں سے تعلق رکھنے والے بچے ہوئے افراد کیلئے نگین پورہ نامی نئی بستی قائم کی گئی تھی تاہم آج ایک بار پھر ان کی قیامت خیز واقع کی یاد تازہ ہوئی ۔ جس کو مد نظر رکھ کر مکینوںنے اپنے مکانات کو چھوڑ کر محفوظ جگہ تلاش شروع کی تاہم قاضی گنڈ کے لوگوںنے ان52کنبوں کو پناہ دی ۔ اس ضمن میں مقامی سماجی کارکن ایڈوکیٹ عبدالرحمان تانترے نے بتایا ہے کہ برفباری تودے گرآنے کی وجہ سے اگرچہ اس بات کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا ہے تاہم ضلع انتظامیہ نے اب تک ان کنبوں کو پناہ دینے اور دیگر جو کنبوں پھنسے ہوئے ہیں ان کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کیلئے کوئی بھی اقدام نہیں اُٹھایا ہے ۔ اس دوران وسطی کشمیر کے ضلع بڈگا م میں بھاری برفباری کے نتیجے میں پسیاں گرآنے کی وجہ سے کئی علاقوں میں لوگوں کی جان کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔ ادھر پولیس نے جمعرات کو کہا کہ اْنہوں نے وسطی کشمیر کے کھاگ بڈگام علاقے میں سات گھرانوں کو بچاکر محفوط مقام پر پہنچایا۔ اْن کے مکان پسیاں گر آنے والے علاقے میں آتے ہیں۔پولیس نے کہا کہ سات کنبوں کے28ارکان ، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، کو کھاگ پولیس سٹیشن میں ٹھہرایا گیا ہے۔ان سبھی افراد کو ضلع کے ککرباغ علاقے سے بچاکر یہاں پہنچایا گیا ہے۔پولیس نے کہا کہ مذکورہ افراد کو پولیس کی جانب سے ہی ہر سہولیت فراہم کی جارہی ہے۔ادھر ضلع بانڈی پورہ میں زیر تعمیر ٹرانسمشن لائنیں بھاری برفباری کی وجہ سے ٹوٹ کر گر آئیں ہیں ۔ دریں اثناء جنوبی کشمیر کے سنگرونی علاقے کے ایک گھرانے نے اپیل کی ہے کہ اْن کے گائوں تک پہنچنے والی سڑک سے برف ہٹائی جائے تاکہ وہ اپنی ایک خاتون، جو پلوامہ اسپتال میں جاں بحق ہوگئی، کو گھر پہنچاکر اس کی آخری رسومات انجام دے سکیں۔ عالم بی بی نامی یہ حاملہ خاتون پلوامہ اسپتال میں دم توڑ بیٹھی جب سے اْس کے گھروالے اْس کی میت کو لیکر ابہامہ نامی گائوں میں راستے سے برف ہٹائے جانے کے منتظر ہیں۔یاد رہے کہ وادی میں نئے سرے سے بھاری برفباری کے نتیجے میں تشویشناک صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور وادی نئے سرے سے سفید سونامی کی زد میںآنے کے نتیجے میں وادی بھر میں زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور سڑکوں پر کئی فٹ برف جمع ہونے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کی سہولیات بھی منجمد ہوگئی ہے ۔ ادھر موسمی کی ابتر صورتحال کے نتیجے میں صوبائی انتظامیہ کا کہیں اتہ پتہ نہیں ہے ۔ جس کے نتیجے میں لوگوںکو مزید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔

Comments are closed.