15 فروری سے کٹوتی میں کمی اور بجلی کی فراہمی میں اضافہ ہونے کے امکانات : چیف انجینئرپی ڈی ڈی

رواں برس کے دوران 1125000ڈیجٹل میٹر نسب کئے جارہے ہیں

سرینگر: 15فروری کے بعد بجلی کی فراہمی میں اضافہ کرنے اور کٹوتی کو کم کرنے کا ارادہ ظا رکرتے ہوئے پی ڈی ڈی کے چیف انجیئر نے کہا کہ 2019 کے آخر تک 11025ڈیجٹل میٹر نسب کئے جائے گے اور اس سلسلے میں تمام مراحل طئے کئے جارہے ہیں ۔ورک شاپوں میں افرادی قوت کی کسی بھی کمی سے انکا رکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیکار ٹرانسفارمر کی مرمت زیادہ سے زیادہ چار دن کے اندر اندر کی جاتی ہے اور اس دوران صارفین کوبد لے میں ٹرانسفارمر نسب کیاجاتا ہے ۔اے پی آ ئی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی ڈی کے چیف انجینئر قاضی ہشمت نے کہاکہ 15فروری کے بعد ندی نالوں ،جھیلوں دریاؤں میں پانی کی سطح بلندہوجاتی ہے اور بجلی کی پیداوار میں بھی اضا فہ ہوتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ امید کرتے ہے کہ15فروری کے بعد بجلی کٹوتی میں کمی کی جائے گی اورصارفین کوزیاہ وقت تک بر قی رو فرا ہم کی جائیگی ۔چیف انجینئر نے صارفین سے تلقین کی کہ جہاں کئی بھی انہیں لگتا ہے کہ شڈول پر محکمہ کے اہلکار جان بوجھ کرعمل نہیں کرتے ہیں وہ متعلقہ ایگزیکٹیوانجینئروں کے ساتھ ربطہ قا ئم کریں اور اگر وہاں سے تش فی نہیں ہوپارہی ہے تو برا ہی راستہ پی ڈی ڈی محکمہ کے چیف انجینئرکے دفتر کوآ گاہ کرے ان کے مشکل کاازالہ کیاجا ئیگا ۔چیف انجینئرنے کہا کہ ہم حاکم نہیں ہے بلکہ خادم ہے لوگ قا نونی دائرے میں رہ کرہمیں خدمت کرنے کاموقع فر اہم کرے ہم ان کے مشکا ت کازالہ رنے کی خاطر سرکاری دفتروں میں کرسیوں پربرائے جمان ہیں اور یہ ہماری ذمہ دری ہے کہ ہم عوام کے جائزمشکلات کا بر وقت ازالہ کریں۔وادی میں بجلی ٹرانسفامروں کے مسلسل بیکار ہونے اور ورک شاپوں میں فوری طور ان کی مرمت نہ ہونے کے بارے میں سوال کے جواب میں چیف انجینئر نے کہا کہ جہاں کئی بھی بجلی ٹرانسفامر بیکارہو جاتا ہے پہلے ایسانہیں ہوناچاہئے اگر صارفین ن ناجائزطور پربجلی کا استعمال ناکرے پھرٹرانسفارمر بیکار ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اب جب کہ بیکار ہوگیا وہ چار دنوں کے اندر اندر ورک شاپ میں مرمت کے بعد مکمل کیا جاتاہے اور آ کے علاوہ پی ڈی ڈی محکمہ کے پا س اضافی ٹرانسفار مرہوا کرتے ہے اور جہاں گنجائش بنتی ہے ہم صارفین کواسی وقت دوسرا ٹرانسفامرنسب کرنے کیلئے اقدامات اٹھاتے ہیں ۔سرکاری اداروں کے نام لاکھوں روپے بجلی فیس وصول نہ کرنے کے بارے مٰیں پوچھے گئے سوال کے جوا ب میں چیف انجینئر نے کہا کہ فائنانس ڈیپارٹمینٹ کو جب بھی فندس ملتے ہے سرکاری اداروں کا بجلی فیس ادا ہو تا ہے ۔عارضی جگہوں پر فورسز کی جانب سے بجلی استعمال کرنے کے بارے مٰیں پوچھے گئے سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت باضابطہ طور پر ان کابجلی فیس ادا کرتی ہے اب جہاں مستقل کیمپ ہے وہ باقائد گی کے ساتھ اپنا بجلی فیس ہرسال ادا کرتے ہیں۔ڈیجٹل میٹر رواں برس کے آ خرتک نسب کرنے کاارادہ ظاہر کرتے ہوئے چیف انجینئر نے کہا کہ 11لا کھ 25 ہزا ڈیجٹل میٹروں میں سے ولاکھ پریپیڈ اور دو لاکھ پچیس ہزار سمارٹ پریپیڈ بجلی میٹر رواں برس کے آ خرتک نسب کئے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میٰں تمام لوازمات پورے کئے جا رہے ہیں۔

Comments are closed.