کشمیر مسئلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی لئے پتھر کی لکیر کی حیثیت رکھتا ہے :/قریشی

کشمیریوں کی سیاسی سفارتی اخلاقی حمایت جاری رہے گی

سرینگر: کشمیر مسئلے کو پاکستان کی خارجہ پالسی کیلئے پھتر کی لکیر قرار دیتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کواجاگر کرنے کشمیریوں کی سیاسی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے ۔ریاست میں حقو ق البشر کی پامالیوں کوناقا بل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو کشم رکی موجودہ صورتحال کشمیر کے مسئلے کوحل کرنے کیلئے اپنا رول ادا کرنا ہوگا ۔اے پی آ ئی کے مطابق لندن روانہ ہونے سے پہلے ریڈیو پاکستان کے نمائندے کیساتھ گفتگو کے دوران پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قرشی نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالسی کیلئے کشمیرکا مسئلہ انتہا ئی اہمیت کا حامل ہے اور خارجہ پالسی کیلئے پتھر کی لکیر کی حیثیت رکھتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کوپاکستان تن تنہا نہیں چھوڑ سکتا ہے کشمیریوں کی سیاسی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھی جائے گی اور کشمیر مسئلے کواجاگر کر نے کیلئے پاکستان کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریگا ۔ریاست جموں کشمیرمیں انسا نی حقوق کی پامالیوں اور بقول ان کے بھارت کے جانب سے ڈھائے جانے والے ظلم کے بارے میں بین الاقوامی برادری کوآ گا ہ کرنا پاکستان کی ذمہ داری ہے اور پاکستان اپنے فرائض سے پہلو تی نہیں کر سکتا ہے ۔انہوں نے بھارت کی ضد او ہڑ دھرمی کے روا یہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے میں دو نوں ممالک کے مابین نہ صرف اختلافات میں شدت پیدا ہوتی ہے بلکہ خطے کے امن کوبھی خطرہ لاحق ہوتاہے ۔پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم کشمیر کے مسئلے کو بھارت کیساتھ پرامن طریقے سے حل کرا نے کے ہمیشہ سے خوا ہشمندرہے ہیں تا ہم بھارت مسئلے کو حل کر نے میں مخلص نہیں ہیں اور خطے میں کشیدگی اور تناؤ کے ماحول کو بر قرار رکھنے کی بھر پور کوشش کررہا ہے ۔واضح رہے کہ پاکستانی وزیرخارجہ لندن کی پارلیمنٹ میں کشمیرکانفر نس میں شرکت کر نے کے علاوہ کشمیریوں کے سا تھ یکجہتی کااظہار کرتے کیلئے منعقد کی جانے والی ریلی میں بھی شر کت کریگے ۔

Comments are closed.