ویڈیو: وزیر اعظم کی آ مدپر مزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال سے وادی میں ہوکا عالم

حریت قیادت خا نہ اور تھانہ نظر بند ،سرینگر فوجی چھاونی میں تبدیل ،لوگ اپنے گھروں میں محصور

 

سرینگر: وزیر اعظم کی آ مد کے سلسلے میں مشتر کہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال پر وادی میں ہوگا عالم ،بازار ویران ،سڑکیں سنسان ۔حریت قیادت خانہ اور تھانہ نظر بند ،گر مائی دارالخلافہ سرینگر چھاونی میں تبدیل پوری وادی میں حفاظتی اقدامات انتہا ئی سخت ،شہر خاص کے بیشتر علاقوں میں لوگوں کی نقل حرکت پرقد غن ،ہرتال کے دوران کسی بھی علاقے سے ناخوشگوارواقعے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ۔اے پی آ ئی نمائندے کے مطابق مشتر کہ مزاحمتی قیادت سیدعلی شاہ گیلانی مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی جانب سے وزیراعظم ہند نرندر مودی کے دور ریاست کیخلاف ایک روزہ مکمل ہڑتال اور پرامن احتجاجی مطاہرے کی کال پر پوری وادی میں زندگی کاپہیہ جام ہوگیا ۔سخت ترین ہرتال کے باعث وادی کے بڑے شہروں قصبوں اور دیہی علاقوں کے بازار سنسان اور سڑکیں ویران پڑی ہوئی تھی ہرطرف سے پولیس و فورسز کی گاڑیاں نظرآ رہی تھی لوگ خوف ودہشت کیوجہ سے اپنے گھروں میں ہی محصور ہوکررہ گئے ۔پوری وادی میں کارو باری ادارے ٹھپ رہے ،پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا ،احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے انتظا میہ نے حریت ع کے چئر میں مولوی عمرفاروق ،محمد اشرف صحرائی کو کانہ نظر بند کر کے ان کی تمام تر سرگرمیوں پرپابندی عائد کر دی تھی جبکہ حریت کانفر نس کے دوسرے لیڈروں اور کارکنوں کوبھی گرفتار کیا گیا تھا ۔مئیسو مہ کے علاقے میں اس وقت سنسنی اور کودفودہشت کاماحول قا ئم ہوا جب وزیراعظم ہندکے دورے سے قبل پولیس کی ایک بھاری جمعت نے لبر یشن فرنٹ کے چیئر مین مح دیاسین ملک کے رہائشی مکان پرچھاپہ ڈالااور ان کی گرفتاری عمل میں لاکراس سے کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن پہنچا دیا ۔انتظا میہ نے وزیراعظم کے دورے کوخوش اسلوبی کیساتھ انجام دینے کیلئے گر مائی دارالخلافہ سرینگر کو چھاونی میں تبدیل کردیا تھا جگہ جگہ پر پولیس و فورسز کی تعیناتی عمل میں لا ئی گئی تھی ،شاہراہوں کو کانٹے دار تار سے سیل کر دیا گیا تھا شہرٓ خاص کے پانچ پولیس اسٹیشنوں صفا کدل ،مہاراج گنج ،خانیار ،نوہٹہ اور رعناواسری کے تحت آ نے والے علاقوں میٰں پولیس و فورسز کی بھاری جمیعت تعینات کر دی گئی تھی لوگوں کی نقل و حرکت کومحدو د کردیا تھا راہگیروں کی جامہ تلاشی اور شناختی کارڈ چک کئے جارہے تھے ۔وادی کے دوسرے بڑے شہروں وقصبوں اور دیہی علاقوں میٰں بھی پولیس وفورسز کی تعیناتی عمل میں لاکر پولیس اسٹیشنوں فورسز کیمپوں ،ریلوے اسٹیشنوں ،بس اسٹینڈوں کے ارد گرد حفاظتی اقدامات انتہا ئی سخت کردیئے تھے پوری وادی میں زمین سے فضاء تک حفاظت کے غیرمعامولی اقدامات اٹھائے گئے تھے سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے لوگوں کی نقل و حرکت پرکڑی نظر رکھی جارہی تھی جبکہ کئی علاقوں میں ڈراون کیمروں کے ذریعے بھی حالات کا جائزہ لیا جارہا تھا ۔وزیراعظم کے دور وادی کے دوران اطراف و اکناف میں زندگی مفلوج ہوکررہ گئی تا ہم کسی بھی علاقے سے ناخوشگوارواقعے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ۔

Comments are closed.