آزاد ی عوام کا خواب نہیں ،ایک مقدس مشن ،گور نر کا بیان غرور پر مبنی
سرینگر: سید علی گیلانی نے دہلی کے وائسرائے بنے گورنر کی آئے روز ہرزہ رسائی کو غاصب طاقتوں کی بنیادی خصلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے زیادہ مضحکہ خیز اور جگ ہسائی اور کیا ہوگی ہے کہ ہزاروں میل دور سے آئے ایک سرکاری اور انتظامی فرد یہاں کے پشتنی باشندوں کو پاکستان جانے کی دھمکی دیتا ہے۔ بیان کے مطابق یہ اُس مغرور اور مطلق العنان ذہنیت کی عکاسی ہے جس کے تحت ہر قابض اس دھوکے اور خوش فہمی میں مبتلا رہتا ہے کہ طاقت اور اختیارات کی بیساکھیوں کے سہارے وہ اس خطۂ ارض کا ’مالک‘ بن بیٹھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئے روز ایسے افراد کی ذہنی اختراج کے نمونے میڈیا کے ذریعے عام لوگوں تک پہنچتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گورنر صاحب کو اتنی فہم وفراست اور سوجھ بوجھ تو ہونی چاہیے کہ ایک پڑھا لکھا باشعور جوان کسی مولوی، مفتی یا لیڈر کے کہنے پر اپنی جان کی بازی نہیں لگا سکتا۔ وہ کسی دنیاوی لالچ اور سیاسی چکاچوند سے مرعوب نہیں ہوسکتا ہے۔ بھارتی نیتاؤں اور یہاں آئے ہوئے پیشہ ورانہ منتظمین کاش ٹھنڈے دل ودماغ اور عصبیت اور دیش بھگتی کی مصنوعی حصار سے نکل کر ایک انسانی دل رکھنے والے کی طرح پوری صورتحال کا جائزہ لیں تو اس بد سے بدترین ہورہی خونین وادی کا چپہ چپہ انہیں بزبان حال اپنے سینے میں موجود اُس درد اور کرب سے شناسائی کریں گے جس سے یہ بدنصیب ریاست پچھلے 71سال سے سامنا کرنے پر مجبور کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی قبضے سے آزادی یہاں کے عوام کا خواب نہیں، بلکہ ایک مقدس مشن اور اپنے لہو سے سینچی ایک تحریک ہے اور اگر گورنر صاحب ایسی باتوں سے ناآشنا ہیں یا یہ الفاظ اُن کی سمجھ سے بالا ہیں تو وہ اپنے پُرکھوں سے پوچھیں کہ جب وہ انگریزوں کے خلاف صف آراء تھے تو طاقت اور فوجی حرب وضرب کے نشے میں وہ بھی یہی کچھ کہہ رہے تھے، لیکن وقت کے منہ زور تھپیڑوں نے قابض اور غاصب کی سلطنت ہی خس وخاشاک کی طرح یوں بکھیر دی کہ وہ خطہ ارض کے دو چوتھائی حصے پر حکمرانی کرنے والے آج ایک چھوٹے سے ٹکڑے تک سکڑ کر رہ گئے ہیں۔ ظلم وجبر، طاقت اور غرور، فوج اور دولت کچھ دیر کے لیے محکوموں اور مجبوروں کو جکڑ تو سکتا ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ایسے حربے اقوام کو ہمیشہ کے لیے زیر کرنے میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ حریت راہنما نے کہا کہ بھارت نوازوں کو اُن کی اوقات اور اہمیت یاد دلاکر گورنر صاحب نے اس حقیقت کا خود ہی اعتراف کیا کہ یہاں کے عوام پر زبردستی قبضہ برقرار رکھنے کے لیے اپنے کن کن حاشیہ برداروں اور جی حضوریوں کو اُن کے آقاؤں نے پال رکھا ہے۔ غاصب قوتوں کی طرح اُن کے چمچے بھی غیرت اور عزت کے انمول جذبے سے عاری ہوتے ہیں، ورنہ اس قدر تذلیل اور ہزیمت ایک زندہ ضمیر فرد یا گروہ کے لیے اپنے گریبان میں جھانکنے کے لیے کافی ہوتا ہے، لیکن جہاں ضمیر نام کی کوئی رمک بھی باقی نہ ہو، جہاں اپنے ہی لوگوں کی لاشوں پر اقتدار کی کرسی سجائی جاتی ہو، جہاں تباہی وبربادی اور موت کے رقص پر مصنوعی اشک شوئی کرکے ووٹ بٹورنے کا گھناؤنا عمل جاری رکھا جارہا ہو وہاں اُن کے اَن داتاؤں اور آقاؤں کے اس لفظی لتاڑ سے عبرت لینے کے بجائے انہیں اپنے سینے پر میڈل کے طور سجا کر بڑی ڈھٹائی سے یہ لوگ پھر ایک بار قوم کے استحصال کی تیاریوں میں لگ گئے ہیں۔ حریت چیرمین نے ریاستی گورنر کو جنت جہنم کی بحث میں نہ الجھنے کی صلح دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے کہنے کے مطابق جہانگیر نے جو جنت دیکھی ہے اُس کو آپ کی فوج اور آپ کی آدم کُش پالیسی نے جہنم میں تبدیل کیا ہے۔ بھارتی حکمرانوں کا خیال اور فکر کا ثبوت ریاست کا کونہ کونہ دے رہا ہے۔ سیلاب میں فوجیوں کی مدد کا احسان جتانے پر حریت راہنما نے کہا کہ پوری وادی اس بات سے واقف ہے کہ بھارتی فوج کا کردار تعصب اور دکھاوے کے بغیر کچھ نہیں تھا۔ اس مصیبت کی گھڑی میں اس کے قوم کے جیالوں نے اپنی قوت بازو سے لوگوں کو راحت پہنچائی۔ حکومت ہند نے باہر سے کسی بھی امداد کو آنے سے روک کر اپنی عصبیت کا انسان دشمنانہ کردار ادا کیا۔ آزادی پسند راہنما نے بھارتی حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری طویل اور صبر آزما تحریک اس بات کی گواہ ہے کہ مراعات، استعماری پیکیج، نوکریوں اور تعمیر وترقی کے لالی پاپ سے اس قوم کو بہلایا نہیں جاسکتا۔ اگر جنت کی واقعی فکر ہے اس قتل وغارت گری پر حقیقی معنوں میں روک لگانا چاہتے ہو، جوانوں کے جذبات اور احساسات کی تھوڑی سی بھی قدر ہے، عوام کے رستے ہوئے زخموں پر معمولی سا مرہم رکھنا چاہتے ہو تو طاقت اور ظلم کے بجائے حقیقت پسندی، دیانتداری، اخلاقی اور انسانی قدروقیمت کے سنہری اصولوں کو اپنا کر اس خطہ ارض کو گولیوں، بارود، پلٹ اور بندوقوں سے خالی کرکے یہاں کے لوگوں کو آزادی اور امن وسکون سے زندہ رہنے کے اپنے بنیادی حق سے محروم نہ کریں۔
Comments are closed.