ویڈٰیو: کشمیری اسیران کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ، حیدر پورہ ،مائسمہ چوک ،نوہٹہ میں مزاحمتی کارکنان کا احتجاج
سرینگر:یکم فروری : کشمیری اسیران کی غیر مشروط رہائی کے مطالبے کو لیکر شروع کی مہم بعنوان ’زندان کشمیر کو آزادکرو‘ کے تحت جمعہ کو مزاحمتی عہدیداران وکارکنا نے حیدر پورہ ،مائسمہ چوک اور نوہٹہ میں احتجاجی دھرنے دئے ۔اس ضمن میں موصولہ اطلاعات کے مطابق حریت کانفرنس کے لیڈران اور کارکنان نے حیدرپورہ میں ریاست اور بیرون ریاست جیلوں میں نظربند قیدیوں کی غیرقانونی نظربندی کو طول دینے کی کارروائیوں کے خلاف پُرامن احتجاج کیا۔ انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ ریاست اور بیرون ریاست جیلوں میں بند جموں کشمیر کے مظلوم قیدیوں کی حالتِ زار کا نوٹس لے کر ان کی غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر انسانی نظربندی کو ختم کرانے اور ان کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔ اخبارات کے لیے جاری بیان میں کہا گیا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے قائدین اور کارکنان جن میں امیرِ حمزہ شاہ، مولوی بشیر عرفانی، محمد یٰسین عطائی، خواجہ فردوس وانی، سید محمد شفیع، محمد مقبول ماگامی، شکور احمد شاہ، مبشر اقبال، ارشد احمد بٹ، سید امتیاز حیدر، رفیق احمد شاہ، عمران احمد بٹ، امتیاز احمد شاہ، محمد شفیع میر، عبدالحمید اِلٰہی اور سجاد احمد لون کے علاوہ لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر قائدین نے ریاست اور ریاست سے باہر کی جیلوں میں بند قائدین کی مسلسل نظربندی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اور خیالات کی آزادانہ ترویج سے متعلق بھارت کے دعاوی نہ صرف ڈھونگ ثابت ہورہے ہیں بلکہ حق و انصاف پر مبنی ہر آواز کو دبانے کے لئے ہزاروں افراد کو بنا مقدمہ چلائے قید خانوں میں پابند سلاسل کرکے یہاں سیاسی غیریقینیت اور عدمِ استحکام کے ماحول کو قائم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے تمام نظربندوں کی فوری رہائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مہذب سماج میں اس قسم کی بربریت اور سفاکیت کی گنجائش نہیں ہے کہ کسی بھی فرد کو اپنے خیالات کو جمہوری طریقے پر اظہار کرنے کی پاداش میں سالہاسال تک قید کرلیا جائے۔اس دوران مشترکہ مزاحمتی قیادت کے احتجاجی پروگرام #FreeKashmirPrisoners مہم کی پیروی میں نماز جمعہ کے بعد مرکزی جامع مسجد سرینگر کے باہر جموںوکشمیر اور بھارت کی مختلف ریاستوں میں مقید ہزاروں کشمیری سیاسی نظر بندوں کی حالت زار اور ان کے ساتھ روا رکھے جارہے غیر انسانی سلوک کیخلاف صدائے احتجاج بلند کیاگیا اور ان کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ دہرایا گیا ۔احتجاج میں بڑی تعداد میں حریت کارکنوں کے علاوہ جناب مشتاق احمد صوفی، فاروق احمد سوداگر، محمد یوسف بٹ، محمد صدیق ہزار، ساحل احمد وار، اور دوسرے لوگوں نے شرکت کی۔مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر لبیک کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ کے قائدین و اراکین لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے ہمراہ مدینہ چوک پر جمع ہوئے جہاں انہوں نے کشمیری اسیروں پر جموں کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف بھرپور پرامن احتجاج کیا۔ لبریشن فرنٹ کے قائدین نور محمد کلوال، شیخ عبدالرشید، پروفیسر جاوید، غلام محمد ڈار، محمد حنیف اور امتیاز احمد وغیرہ نے زندگی کے دوسرے کئی شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ہمراہ مدینہ چوک سے بڈشاہ چوک کی جانب مارچ کیا جہاں پر ایک پرامن احتجاجی دھرنا بھی دیا گیا جس سے مختلف قائدین نے خطاب کیا۔ جیلوں میں اسیر کشمیریوں کی حالت زار کو بدترین اور افسوس ناک قرار دیتے ہوئے مقررین نے کہا کہ کورٹ بلوال جیل میں مقید کشمیریوں کی حالت زار انتہائی تشویش ناک ہوگئی ہے۔ یہاں اسیروں کو سیلوں میں رکھا جارہا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر انہیں مار پیٹ اور تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ قریب ایک ماہ سے انہیں اپنے گھر والوں تک سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے جبکہ کئی زخمی یا بیمار قیدی ہیں جنہیں کوئی بھی طبی سہولت بہم پہنچانے سے بھی مسلسل انکار کیا جارہا ہے۔ اس جبر کے خلاف قیدیوں نے کئی روز سے بھوک ہڑتال کررکھی ہے لیکن جیل حکام ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں۔ ٹھیک اسی قسم کے حالات دوسرے جیلوں میں بھی ہیں جہاں قیدیوں کو تنگ طلب کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے گھر والوں اور رشتہ داروں تک کو تذلیل و تحقیر کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مقررین نے عالمی ریڈ کراس کمیٹی اور دوسرے انسانی حقوق اداروں سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں فوری مدخلت کریں اور کشمیری اسیروں کی زندگیاں بچانے کی سعی کریں۔
Comments are closed.