دربگام پلوامہ شبانہ خونین معرکہ آرائی ،جیش کمانڈر اپنے ساتھی سمیت جاں بحق

خراب موسمی صورتحال کے باوجود علاقے میں رات بھر پُر تشدد جھڑپیں ، ٹیر گیس شلنگ
11مرتبہ نماز جنازوں کی ادائیگی کے بعد دونوں مقامی جنگجو آبائی علاقوں میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک

سرینگر/یکم فروری/سی این آئی/ جنوبی ضلع پلوامہ کے دربگام علاقے میں شبانہ خونین معرکہ آرائی کے دوران جیش کمانڈر اپنے ساتھی سمیت جاں بحق ہو گیا جبکہ ایک رہائشی مکان کو بھی نقصان پہنچ گیا ۔اسی دوران علاقے میں برفباری کے بیچ رات بھر پُر تشدد جھڑپیں ہوئی جبکہ افواہوں کی روکتھام کیلئے انتظامیہ نے ضلع پلوامہ اور شوپیان میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل کی ۔ پولیس ترجمان نے جھڑپ میں دو مقامی جیش جنگجو کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا دونوں جاں بحق جنگجو مختلف سرگرمیوں میں ملوث تھے ۔ اسی دوران خراب موسمی صورتحال اور مکمل ہڑتال کے باوجود ایک درجن نماز جنازوں کی ادائیگی کے بعد دومقامی جنگجوکو ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں آبائی علاقوں میں اسلام و آزادی کے حق میں فلک شگاف نعروں کے بیچ آبائی علاقوں میں سپرد خاک کیا گیا جبکہ تجہیز و تکفین کے بعد آبائی علاقوں میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان پُر تشدد جھڑپیں ہوئی ۔ سی این آئی کو دفاعی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پلوامہ کے دربگام علاقے میں جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج و فورسز ، سی آر پی ایف اور ایس او جی نے علاقے کو جمعرات کی شام دیر گئے محاصرے میں لیا اور وہاں جنگجو مخالف آپرین شروع کیا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں اُس گولیوں کی گن گرج سنائی دی جب ایک رہائشی مکان میں محصور جنگجوؤں اور فورسز کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی ۔معلوم ہوا ہے کہ فورسز اور جنگجوؤں کے مابین گولیوں کا تبادلہ کچھ دیر تک جاری رہا جس دوران فورسز نے مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو سرنڈر کرنے کی پیشکش کی تاہم وہ بضد رہے جس دوران طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔معلوم ہوا ہے کہ فورسز نے رہائشی مکان پر مارٹر گولے داغے جس کے نتیجے میں مکان زمین بوس ہو گیا ہے اور فوج نے مکان کے ملبے سے 2مقامی جیش جنگجو جن کی شناخت شاہد بابا ساکنہ دربگام پلوامہ اور عنا یت اللہ ساکنہ آری ہل پلوامہ کے بطور ہوئی ، اور ان کے قبضے سے بھاری مقداد میں اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کیا گیا ہے ۔دونوں مہلوک جنگجوکا تعلق عسکری تنظیم جیش محمد سے بتایا جاتا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ جھڑپ کے ساتھ ہی علاقے میں رات بھر علاقے میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا جس دوران فورسز نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کا استعمال کیا ۔ ادھر پولیس ترجمان کی طرف سے موصولہ بیان کے مطابق ایک مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی فورسز اور پولیس نے درمیانی رات کو دربگام پلوامہ میں تلاشی آپریشن شروع کیا جس دوران علاقے میں موجود جنگجوؤں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔ چنانچہ حفاظتی عملے نے بھی جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں دو جنگجوؤں ہلاک ہوئے ۔جن کی شناخت شاہد مشتاق بابا ولد مشتاق احمد ساکنہ دربگام پلوامہ اور عنایت عبدا زگر ولد محمد عبدا ﷲساکنہ آری ہل پلوامہ کے بطور ہوئی ہے اور دونوں کالعدم تنظیم جیش کے ساتھ وابستہ تھے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق شاہد بابا نامی جنگجو شوپیاں اور پلوامہ میں سرگرم تھا اور اُس کے خلاف جرائم کی ایک لمبی فہرست موجود ہے۔ شاہد بابا سیکورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے اور انہیں پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کئی وارداتوں میں براہ راست ملوث تھا جبکہ مذکورہ کئی گرنیڈ حملوں میں بھی پیش پیش رہ چکا ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق دونوں جنگجوپولیس وفورسز پر حملوں ، عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں اور دیگر تخریبی سرگرمیوں میں پیش پیش تھے۔جھڑپ کی جگہ بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود اور قابلِ اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔ عوام الناس سے ایک بار پھر التماس ہے کہ وہ جھڑپ کی جگہ جانے سے گریز کریں کیونکہ وہاں پر ممکنہ بارودی مواد موجود ہونے کے باعث خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔لوگوں سے گذارش کی جاتی ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ اس سلسلے میں تعاون کریں اور جب تک جھڑپ کی جگہ کو صاف کرکے محفوظ قرار نہ دیا جائے تب تک تصادم کی جگہ جانے سے اجتناب کیا جائے۔جمعہ کی اعلیٰ صبح دو مقامی جنگجو کے جاں بحق ہونے کی خبر پھیلتے ہی جنوبی ضلع پلوامہ کے بیشتر علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز ہوگئے اور پبلک و نجی ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہوگئی۔ مختلف کاموں کے سلسلے میں اپنے گھروں سے باہرنکلنے والے لوگ عجلت میں واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئے ۔اسی دوران ایک کے بعد ایک نماز جنازوں کی ادائیگی اور مکمل ہڑتال کے بیچ جھڑپ میں جاں بحق ہوئے دونوں مقامی جنگجوؤں کو اسلام وآزادی کے حق میں فلک شگاف نعروں اور مکمل ہڑتال کے بیچ اپنے آبائی علاقوں میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیااور نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔معلوم ہوا ہے کہ جونہی تمام مہلوک جنگجوؤں کی نعشوں کو اپنے اپنے آبائی علاقوں میں پہنچایا گیا تو اس موقعے پر وہاں کہرام مچ گیااور لوگوں کا جم غفیر علاقے میں امڈ آیا اور اس دوران نہ صرف وہاں ماتم اور آہ و زاری کے رقعت آمیز مناظر دیکھے گئے بلکہ علاقے میں لاوڈ اسپیکروں پر اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کا سلسلہ ردن بھر جاری رہا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسی دوران مہلوک جنگجوؤں کے آبائی علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جس دوران نوجوانوں نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ مکمل ہڑتال کے بیچ پلوامہ ، اور شوپیان کے درجنوں علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگوں نے مہلوک جنگجوؤں کے آبائی علاقوں کا رخ کیا جس فوران انہوں نے جاں بحق جنگجوؤں کے نماز جنازے ادا کئے گئے ۔عین شاہدین کے مطابق لوگوں کی بھاری تعداد کے پیش نظر قریب ایک درجن مرتبہ نما ز جنازہ ادا کیا گیا ،۔معلوم ہوا ہے کہ جاں بحق جنگجو ؤں کے نماز جنازوں میں ہزاروں لوگوں کی تعداد میں شرکت کی جس کے بعد انہیں اپنے آبائی مقبروں میں پْر نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ۔اس دوران جاں بحق جنگجوؤں کے یاد میں جنوبی کشمیر میں مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، دکانیں، تجارتی مراکزا ور دفاتر وغیرہ بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمدروفت بھی بری طرح سے متاثر رہے ۔

Comments are closed.