اکثریت ملنے کی صورت ’ پی ایس اے ‘کا نام و نشان مٹا دونگا
پلوامہ: سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے جمعرات کو وعدہ کیا کہ اگر اْن کی پارٹی اقتدار میں آگئی تو متنازع پبلک سیفٹی ایکٹ(پی ایس اے) کو ہٹایا جائے گا۔انہوں نے کہا ’ہمارے نوجوان پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار نہیں ہونگے اور والدین بھی پریشان نہیں ہونگے‘۔کے این این کے مطابق پلوامہ میں پارٹی کے یک روزہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آنے والے اسمبلی انتخابات میں اکثریت ملنے کی صورت میں پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے )کو ہٹانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر لوگ ہمیں مضبوط منڈیٹ دیں گے تو ہم جموں و کشمیر سے ان قانون کا نام و نشان مٹادیں گے۔ انہوں نے کہا ’ہم یہاں افسپا کا قانون مرکز سے بات کئے بنا نہیں اُٹھا سکے، لیکن جو اپنے قانون ہیں، اُن کو ہم کیوں نہیں اُٹھا سکتے، میں نے طے کیا ہے اورمیں آپ کو یقین دلاتا ہوں جس دن نیشنل کانفرنس کی اپنی حکومت بنی ،انشاء اللہ کچھ ہی دنوں کے اندر اندر پبلک سیفٹی ایکٹ کو قانون کے دائرے سے باہر نکال دوں گا۔ہمارے نوجوان پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار نہیں ہونگے اور والدین بھی پریشان نہیں ہونگے۔‘‘ہل میں ہی حل کا اعلان کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ حکومت عوام کو راحت پہنچانے کیلئے ہوتی ہے لیکن اس کے لئے ہمیں اپنے بل پر حکومت چاہئے۔انہوں نے کہا کہ سیلاب اور دیگر تمام مشکلات کے باوجود ہم نے 2014میں پی ڈی پی اور بھاجپا کو جو ریاست سونپی، یہ لوگ کم از کم اُسی پوزیشن کو سنبھال کے رکھتے تو بہت بڑی بات ہوتی لیکن پتہ نہیں ان لوگوں نے ہمیں کتنے سال پیچھے دھکیل دیا۔پی ڈی پی کی مخلوط حکومت کے دوران سب سے زیادہ خمیازہ جنوبی کشمیر کو اُٹھانا پڑا، یہاں کوئی گھر نہیں ہے جہاں ماتم نہ ہو،یہاں کے نوجوانوں کیساتھ سب سے زیادہ استحصال ہوا، سب سے زیادہ ٹیئر گیس، پیلٹ گن اور گولیاں چلیں، سب سے زیادہ لوگ مارے گئے، سب سے زیادہ نوجوان بندوق کی طرف مائل ہوئے۔ کوئی دن ایسا نہیں جب ذرائع ابلاغ میں کہیں نہ کہیں کریک ڈاؤن،کسی نہ کسی کے مرنے کی خبر، کسی نہ کسی کے زخمی ہونے کی خبر، کسی نہ کسی نوجوان کے ملی ٹنسی جوائن کرنے کی خبر دیکھنے ، سننے اور پڑھنے کو ملتی ہے۔ عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ لوگ فخر کیساتھ کہتے تھے ہم نے 200ملی ٹنٹ مارے، ہم نے 250ملی ٹنٹ مارے۔ ارے کس کو مارا؟ یہ تو ہمارے اپنے ہی مارے جارہے ہیں، جو نوجوان کل تک ہمارے پاس نوکری کیلئے درخواست لاتا تھا اُسی کو تو تم نے اس طرف (بندوق) دھکیلا۔‘‘انہوں نے کہاکہ الیکشن کا بگل بجتے ہی مگر مچھ کے آنسو پھر شروع ہوگئے۔’’ حکومت میں رہ کر محبوبہ مفتی کہتی تھی کہ جو نوجوان مارے گئے وہ پولیس تھانوں پر حملے کررہے تھے وہ دو دھ اور ٹافی لانے نہیں گئے تھے، بحیثیت وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا سی آر پی ایف اور فوج کی بندوق دکھانے کیلئے نہیں ہوتیں یہ استعمال کرنے کیلئے ہوتی ہیں اور آج یہی محبوبہ مفتی مارے گئے ملی ٹنٹوں کے گھر جاکر مگر مچھ کے آنسو بہانے جاتی ہیں۔ اگر موصوفہ وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر رونے جاتی، تو میں مانتا محبوبہ مفتی دلیر لیڈر ہے ، اگر محبوبہ مفتی بھاجپا کیساتھ اتحاد کے دوران کسی ملی ٹنٹ کے گھر جاکر تو میں مانتا کہ وہ دلیر ہے۔‘‘عمر عبداللہ نے کہا کہ اُس وقت محبوبہ مفتی کہتی تھی کہ کشمیر کو بچانے والا صرف اور صرف مودی ہے، میں نے مودی جی سے جو مانگا وہ بھی ملا اور جو نہیں مانگا وہ بھی مل گیا۔لیکن اُس کے بعد یہاں صرف بندوقیں زیادہ آئیں، فورسز زیادہ آئے، تباہی زیادہ ہوئی، لوگ زیادہ پریشان ہوئے، لوگوں کو تکلیفیں پہنچیں۔ شائد محبوبہ مفتی نے یہی کچھ مانگا ہوگا؟این سی نائب صدر نے کہا کہ ’’این آئی اے کی گرفتاریاں محبوبہ مفتی کے دورِ حکومت میں ہوئی اور ان گرفتاریوں میں موصوفہ کی حکومت نے معاونت کی اور آج گرفتار کئے گئے افراد کو چھوڑنے کا رونا روتی ہو۔ہم نے جہاں ایک منزل کا بنکر توڑا، ان لوگوں نے دو منزلہ بنکر بنائے، ہم نے جہاں 100لوگوں کا کیمپ اُٹھایا ان لوگوں نے وہاں 500لوگوں کا کیمپ قائم کروایا۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’جب تک انسان کی نیت صاف نہیں ہوتی، تب وہ اپنے اداروں میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا، ہم نے 2008میں اپنے گھر، اپنے رشتے دار اور اپنی تنظیم بچانے کیلئے حکومت نہیں سنبھالی،ارادہ تھا ریاست کی خدمت کریں، بہتری لانے کوشش کریں، بڑے بڑے سیاسی مسئلہ سے لیکر چھوٹے سے چھوٹا گولی کوچے کا مسئلہ حل کرنے کی نیت تھی، 6سال حکومت کی اور جتنا ہوسکتا کام کیا، جو کرنا تھا اُس کا 100فیصدی نہیں کرپائے لیکن ایسا کوئی علاقہ ایسا نہیں رہا جہاں ہم نے بہتری کا کام نہیں کیا۔ ہم نوجوانوں کو بھر پور روزگار نہیں سکے لیکن ہم نے انہیں ملی ٹنسی کی طرف بھی نہیں دھکیلا۔ کیونکہ ہماری نیت صاف تھی۔اس کے برعکس پچھلے 4سال کا حال دیکھئے، سارا آپ کے سامنے ہے، جن نوجوانوں کو ہمیں نے روزگار کے آرڈر تھمانے تھے ، اُن نوجوان کو بندوق اُٹھانے پر مجبور کیاگیا۔ جن نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق نہیں آئی اُن نوجوانوں نے پتھر اُٹھائے۔ کیونکہ حالات نے اُن کو مجبور کیا۔پی ڈی پی بھاجپا حکومت کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جہاں پر ہم مسئلے کی بات کرتے تھے، وہاں ان لوگوں نے ہمارے مسائل اور زیادہ بڑھادیئے، جہاں ہم نے بات چیت کیلئے دروازے کھول دیئے، ان لوگوں نے دروازے کیا کھڑکیاں بھی بند کردیں۔کوئی گنجائش ہی نہیں رکھی۔ ہم نے کم از کم حالات میں اس حد تک سدھارے تھے کہ ہم مرکز سے افسپا اُٹھانے کی بات کر پاتے تھے، آج تو ان لوگوں نے بات کرنے کے قابل بھی نہیں رکھا۔کیوں؟ کیونکہ ان کی نیت صاف نہیں تھی، ان کے ارادے صحیح نہیں تھے۔ محبوبہ مفتی نے خود تسلیم کیا انہوں نے جموں وکشمیر کی بقاء کیلئے نہیں، نوجوانوں کے روزگار کیلئے نہیں، پاور پروجیکٹوں یا تعمیر و ترقی کیلئے نہیں بلکہ اپنی جماعت کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے کیا۔وہ الگ بات ہے آج اُن کی جماعت کاکیا ہے، محبوبہ مفتی نے تو 3سال جماعت کو ٹوٹنے سے بچایا لیکن ریاست کی تباہ کردیا۔عمر عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی والے کہتے تھے پاور پروجیکٹ واپس لائیں گے، اُلٹا جو ہمارے پاس پاور پروجیکٹ تھے وہ بھی اُن کے حوالے کردیئے۔آج سوشل میڈیا پر وہ خطوط وائرل ہیں جن پر مرکزی وزیر بجلی نے محبوبہ مفتی کو ریٹلے پروجیکٹ مرکز کو سونپنے کیلئے لکھے تھے، اگر محبوبہ مفتی نے اُس وقت انکار کیا ہوتا تو آج فائل گورنر صاحب کے ٹیبل پر نہیں ہوتی۔کنونشن سے پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈر سکینہ ایتو، جنوبی زون صدر ڈاکٹر بشیر احمد ویری، سینئر لیڈران غلام نبی رتن پوری، غلام محی الدین میر، محمد اشرف بٹ اور یوتھ صدر جاوید رحیم بٹ نے بھی خطاب کیا۔
Comments are closed.