قریشی ،میرواعظ ٹیلی فونک گفتگو ،’یو کے ‘ میں کشمیر کانفرنس، پاکستانی ہائی کمشنر کی طلبی کے جواب میں بھارتی ہائی کمشنر بھی دفتر خارجہ طلب

بھارت کا اعتراض،پاکستان نے کیا مسترد
پاکستان کا طرز عمل ہندوستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی: وجے گوکھلے ،بھارت کا اعتراض آئندہ انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش: ڈاکٹر محمد فیصل

سرینگر: بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی سطح پر اُس وقت الفاظی جنگ نے شدت اختیار کی جب بھارت نے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمو د قریشی کی میر واعظ عمر فاروق سے ٹیلی فونک گفتگو پر سخت اعتراض ظاہر کیا جبکہ ’یو کے ‘ میں پاکستانی کی جانب سے منعقد کی جانی والی ’کشمیر کانفرنس ‘ پر بھی مایوسی کا اظہار کیا ۔تاہم پاکستان نے بھارتی اعتراض کو مسترد کر تے ہوئے پاکستانی ہائی کمشنر کی طلبی پر احتجا جاً بھارتی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلب کر لیا ۔بھارت کی جانب سے پاکستان سفیر کو طلب کر کے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی مزاحمتی لیڈر میر واعظ عمر فاروق سے فون پر گفتگو پر احتجاج کرنے کے بعد پاکستان نے بھی بھارتی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرلیا۔ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ نے حریت (ع) چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو کال کر کے تمام بین الاقوامی فورمز پر کشمیر کا معاملہ اٹھانے کے حوالے سے پاکستانی کوششوں سے آگاہ کیا۔ان کا موقف تھا کہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی تحقیقات کرنے کیلئے کمیشن کو آنے کی اجازت دے،جس پر میر واعظ عمر فاروق نے پاکستانی حکومت کی کوششوں کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے کشمیر کے لوگوں کا جذبہ کم نہیں ہوسکتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیری ظلم و ستم اور کالے قوانین کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میر واعظ کو لندن میں ہاؤس آف کامنز کے زیر اہتمام آنے والی تقریب کے بارے میں بتایا جس میں 4 اور 5 فروری کو ایک نمائش بھی کیا جائے گی، جس پر میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھی اس میں شرکت کے خواہشمند ہیں لیکن بھارتی حکومت نے ان کے پاسپورٹ ضبط کررکھے ہیں تا کہ وہ بیرونِ ملک نہ جاسکیں۔اس حوالے سے دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ بھارت نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور میرواعظ عمر فاروق کے درمیان ٹیلی فونک رابطے پر احتجاج کیلئے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کیا،جس کے ردعمل کے طور پر سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے بھارتی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے پاکستانی سفیر کی طلبی پر احتجاج کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیلی فون کال پر بھارت کے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کشمیریوں کی جدوجہد اور حقِ خود ارادیت کیلئے حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی سیکریٹری خارجہ نے بھارتی سفیر پر واضح کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گا۔پاکستان ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے بھارت کی جانب سے پاکستانی سفیر کی طلبی آئندہ انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے، اگر آپ الیکشن جیتنا چاہتے ہیں اس میں ہمیں ملوث نہیں کریں۔ ان کا کہناتھا کہ بھارت اپنا الیکشن اپنے ملک میں لڑے، پاکستان کو اس میں نہ گھسیٹے، کرتارپور پر پاکستان کی پالیسی واضح ہے لیکن بھارت کا طرز عمل بچکانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی شہر ظفر وال سے سرحد پار کرکے بھارت جانے والے بچے کے معاملہ کا نوٹس لیا ہے اور بھارت کے ساتھ اس حوالے سے رابطہ کیا ہے۔علاوہ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی قیادت پہلے بھی کشمیری رہنماؤں سے بات چیت کرتی رہی ہے لہٰذا وزیر خارجہ کی کشمیری رہنما کو ٹیلی فون کال کوئی انوکھی بات نہیں۔ادھر بھارت نے ’یو کے ‘ میں پاکستان کی جانب سے منعقد کی جانی والی کشمیر کانفرنس پر بھی اعتراض جتایا ہے ۔اکنامک ٹائمز (ای ٹی ) کی ایک رپورٹ کے مطابق نئی دہلی نے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمو دقریشی کے دورہ برطانیہ (لندن) کے دوران کشمیر کانفرنس کے انعقاد کی اجازت دینے پر سفارتی ذرائع کے تحت معاملہ یو کے اور بر طانوی حکومت کی نو ٹس میں لایا ہے ۔یاد رہے کہ مرکزی وزارت خارجہ نے پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کر کہاہے کہ یہ کسی بھی طرح مناسب نہیں کہ پاکستان کا کوئی وزیر کشمیری مزاحمتی لیڈر سے بات کرے، کیونکہ یہ ہندوستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔ہندوستان نے پاکستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود کو بدھ کی دیر رات طلب کرکے ایک پاکستانی وزیر کے ذریعہ مزاحمتی لیڈر میر واعظ عمر فاروق سے فون پر بات کرنے پر سخت احتجاج کیا۔ خارجہ سکریٹری وجے گوکھلے نے پاکستان کے وزیر شاہ محمود قریشی کی طرف سے میر واعظ سے فون پر بات کرنے کو ہندوستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کرنے والا گھناؤنا عمل قرار دیا۔اس تعلق سے وزارت خارجہ نے بیان جاری کر کے کہا کہ ’’خارجہ سکریٹری نے ہندوستان کے اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کرنے والے پاکستان کے وزیر خارجہ کی تازہ ترین کوشش کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔‘‘ مسٹر گوکھلے نے کہا کہ پاکستان کا یہ مکروہ عمل بین الاقوامی تعلقات کا تعامل کرنے والے تمام معیار کی خلاف ورزی کرتا ہے۔انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’پاکستان کے وزیر خارجہ کی یہ حرکت پڑوسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی مانند ہے۔‘‘ مسٹر گوکھلے کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے ذریعے پاکستان نے پھر سے تصدیق کی ہے کہ وہ ’دہشت گردی اور ہندوستان مخالف سرگرمیوں‘ سے وابستہ لوگوں کو سرکاری طور پر کنٹرول اور حوصلہ افزائی کرتا ہے۔(کے این این )

Comments are closed.