40روزہ ’’چلہ کلان ‘‘نے آخری دن بھی دکھائے اپنے تیور
ٹنل کے آر پار پھر ہلکی برفباری سے معمول کی زندگی متاثر
سرینگر/30جنوری: موسم سرماء کا شہنشاہ زمستان 40روز پر مشتمل ’چلہ کلان‘نے جاتے جاتے آخری دن بھی اپنی طاقت دکھاکرشہر سرینگر سمیت وادی کے بھر میں برفباری جاری رکھی جس کے نتیجے میں درجہ حراررت میں مزید گراوٹ ہوئی اور سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیا ۔ اس کے ساتھ ہی 31جنوری سے ’چلہ خرد‘کے 20دن بھی شروع ہوئے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق موسم سرماء کا شہنشاہ’’40روزہ چلہ کلان‘‘آج باضابطہ طور رخصت ہوچکا اور اپنے آخری روز بھی اہلیان وادی کواپنی طاقت کے جوہر دکھاکر برفباری جاری رکھی جس کے نتیجے میں دن کے درجہ حرارت میں ایک بار پھر گراوٹ آئی۔چلہ کلان کے آخری دن بھی شہر سرینگر سمیت وادی بھر میں بدھ کے روز صبح سے ہی برفباری ہوئی شروع ہوئی ۔ شہر سرینگر اور جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ، قاضی گنڈ، پلوامہ اور کولگام میں ہلکی برفباری دن بھر جاری رہے جبکہ شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ کے پہاڑی علاقوں اور ضلع بارہمولہ کے پہاڑی علاقوںمیں درمیانہ درجے کی برفباری ہوئی جس کے نتیجے میں دن کے درجہ حرارت میں مزید گراوٹ دیکھنے کو ملی ۔40روزہ چلہ کلان کے دوران وادی میں ہوئی بھاری برفباری کے نتیجے میں کئی دفع وادی کا بیرون ریاست سے زمینی و فضائی رابطہ منقطع رہا جبکہ چلہ کلان نے گذشتہ تین دہائیوں کے تمام ریکارڈ مات کرتے ہوئے شبانہ درجہ حرارت میں سخت گراوٹ دکھائی جس کے نتیجے میں جھیل ڈل سمیت دیگر آبی ذخائر منجمد ہوئے اس کے ساتھ ساتھ اہلیان وادی کو پانے کے سپلائی نل منجمد ہونے کی وجہ سے پانی کی عدم دستیابی کا بھی سامنا رہا ۔ اس کے علاوہ چلہ کلان نے بجلی کا نظام بھی درہم برہم کردیا تھا چلہ کلان میں ہوئی شدید برفباری آج بھی گائوں اور دیہات کی سڑکوں پر ڈھیرہ جمانے بیٹھی ہے اور کئی دور دراز علاقوں کی سڑکوں سے آج بھی برف ہٹانے کا سرکار کے پاس کوئی پروگرام نہیں ہے ۔ چلہ کلان کی وجہ سے کئی جانیں بھی طلب ہوئی اور آدھ درجن کے قریب شہری برفانی تودوں کی زد میں آکر برف میں زندہ دفن ہوکے رہ گئے ۔40روزہ چلہ کلان کے آخری دنوں میں اگرچہ وادی میں ہلکی دھوپ کھل اُٹھی تاہم محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی کے عین مطابق وادی میں آج صبح سے ہی ہلکی برفباری جاری رہی ۔چلہ کلان کے جاتے ہی 31جنوری سے ’’20روزہ چلہ خرد‘‘جلوہ افروز ہوئی اور اگر خدا اہلیان وادی پر رحم نہیں کرے گا تو چلہ خرد بھی کسی سے کچھ کم نہیں ہے ۔
Comments are closed.