ریٹلے پاور پروجیکٹ NHPCکو دینا بڑی غلطی ہوگی، پی ڈی پی حکومت ایجنڈا آف الائنس سمیت ہر ایک محاذ پر ناکام ہوئی/عمر عبداللہ

سرینگر/30جنوری: ریٹلے پاور پروجیکٹ کو این ایچ پی سی کو سپرد کرنے کے منصوبہ کی مخالفت کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ اس اقدام سے ریاست کی معیشی ترقی پر طویل مدتی منفی اثرات مرتب ہونگے۔سی این آئی کے مطابق حلقہ انتخاب خانیارمیں پارٹی کے یک روز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گورنر انتظامیہ کی طرف سے 850میگاواٹ پاور پروجیکٹ کو این ایچ پی سی کے سپرد کرنے کے اقدام سے ریاست کے اقتصادی مفادات کو زبردست دھچکا پہنچے گا۔ ریاست اس پروجیکٹ کو سٹیٹ سیکٹر پروجیکٹس کے تحت مخصوص انداز میں چلا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر انتظامیہ کا کام ریاست میں عام انتخابات کیلئے سازگار ماحول بنانا ہے، لوگوں کو ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جس میں صاف و شفاف الیکشن کا انعقاد ہو۔گورنر انتظامیہ کو ریاست کے باقی ماندہ کام عوامی منتخبہ حکومت کیلئے چھوڑ دینے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ریٹلے پاور پروجیکٹ کو این ایچ پی سی کے سپرد کرنا گورنر صاحب کی بہت بڑی غلطی ہوگی۔اس فیصلے کو ابھی ٹال دیا جانا چاہئے، یہ فیصلہ گورنر صاحب کے دائرہ اختیار میں نہیں، یہ فیصلہ لوگوں کی چُنی ہوئی سرکار کر سکتی ہے۔ نیشنل کانفرنس کی حکومت بنی تو ہم ریٹلے کے پاور پروجیکٹ کو ہرگز این ایچ پی سی کو نہیں دینگے، ہم نے اپنی حکومت میں یہ پروجیکٹ شروع کیا تھا اور انشاء اللہ ہم اس پر دوبارہ کام کروائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ پاور پروجیکٹ واپس لانا تو دورکی بات پی ڈی پی کی سربراہی والی حکومت نے ریاست میں ایک میگاواٹ پاور کیلئے کام شروع نہیں کیا اُلٹا جن پروجیکٹوں پر کام جاری تھا وہ بھی روک دیا گیا۔ ’’پی ڈی پی نہ صرف پاور پروجیکٹوں کو واپس لانے میں ناکامی ہوئی بلکہ یہ جماعت پورے ایجنڈا آف الائنس میں ناکام ہوئی، وہ اس لئے ہوا کیونکہ ایجنڈا آف الائنس صرف عوام کو گمراہ کرنے کیلئے تھا ،محبوبہ مفتی نے خود اس بات کو تسلیم کیا کہ بی جے پی کے ساتھ 2016میں اس لئے ہاتھ ملایا تاکہ وہ اپنی پارٹی پچا سکیں، جب اُن کے ارادے صحیح نہیں تھے تو نتیجہ بھی صحیح نہیں ہوگا۔ اُن کا ارادہ پاور پروجیکٹس واپس لانے کا نہیں تھا، اُن کا ارادہ اس ریاست کو بچانے کا نہیں تھا، اُن کا ارادہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا نہیں تھا،اُن کا ارادہ صرف اور صرف اپنی جماعت کو ٹوٹنے سے بچانے کا تھا ۔اُن کی جماعت کی آج کیا حالت ہے وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔‘‘وقت پر الیکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس نائب صدر نے کہا کہ پی ڈی پی اور بھاجپا مل کر درپردہ طور پر الیکشن کو مؤخر کرانے کی بھر پور کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ جموں وکشمیر میں وقت پر الیکشن کرانا مودی حکومت کیلئے ایک چیلنج ہے کیونکہ ریاست میں1996کے بعد کسی بھی اسمبلی الیکشن میں دیر نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ4سال سے مرکز اور ریاست میں قائم حکومتوں کی وجہ سے جموںوکشمیر کے عوام کو زبردست مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ پارٹی سرینگر کے لوگوں کے مسائل سے بخوبی واقف ہے۔ ٹریفک دبائو، رہائشی مسائل، صحت و صفائی کے مسائل، گلی کوچوںاور سڑکوں کی خستہ حالی اور سب سے بڑے پر بے روزگاری کے مسائل نے سرینگر کو مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ وقت کی ضرورت ایک ایسی ترقیاتی پالیسی اختیار کرناہے جس میں تعمیر و ترقی بھی ہو اور اور ماحولیاتی توازن بھی برقرار رکھا جائے۔

Comments are closed.