کشمیر ایک سچے دوست کی رفاقت سے محروم ہو گیا ا: سوزؔ

جارج فرنانڈیز کو ہمیشہ کشمیر کے دوستوں میں شمار کیا جائیگ

سرینگر: سابق مرکزی وزیر،پروفیسر سیف الدین سوزنے کہا ہے کہ سابق وزیر دفاع آنجہانی جارج فرنانڈیز کو ہمیشہ کشمیر کے دوستوں میں شمار کیا جائیگا۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق سابق مرکزی وزیر،پروفیسر سیف الدین سوزنے کہا ’میں ہندوستان کے ایک بہت بڑے سیاست دان اور سابق وزیر دفاع جارج فرنانڈیز کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کرتا ہوں‘۔ انہوں نے کہا’میں جارج فرنانڈیز کو بہت ہی قریب سے جانتا تھا اور اُن کے ساتھ میرے مراسم ذاتی نوعیت کے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ 1990 ء ؁ کے ابتداء میں جب جگموہن کے ہاتھوں کشمیر میں ظلم و جبر کا ماحول پروان چڑھا تھا، تو اُس وقت جارج فرنانڈیز کشمیریوں کیلئے امید کا ایک مرکز بن گئے تھے‘۔ان کا کہناتھا کہ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ میں اُس زمانے میں اکثر 2۔ کرشنا منن مارگ جاتا تھا جہاں اُن کا دروازہ چوبیس گھنٹے کھلا رہتا تھا۔ اُس زمانے میں اعلیٰ سماجی کارکن ۔جیا جیٹلی اُس گھر میں مہمان نوازی کے فرائض انجام دیتی تھیں!،سابق مرکزی وزیر،پروفیسر سیف الدین سوزنے کہا ہے کہجار ج فرنانڈیز کو اپنے قریب دوست ’جارج صاحب ‘کہہ کر پکارتے تھے اور وہ ذاتی طور سیاستدانوں کے اُس طبقے سے تعلق رکھتے تھے جو ہر گز لگی لپٹی سے بات نہیں کرتے تھے اور ہمیشہ عوامی معاملات میں سچی لگن کے ساتھ دلچسپی لیتے تھے!۔انہوں نے کہا کہ سیاست کو علیحدہ چھوڑ کر مجھے آج کے دن یہ کہنا چاہئے کہ جارج فرنانڈیز کی موت سے کشمیر ایک سچے دوست کی رفاقت سے محروم ہو گیا!میں اُن کے انتقال پر لیلیٰ فرنانڈیز اور غمزدہ خاندان کے دوسرے افراد کے ساتھ دلی تعزیت پیش کرتا ہوں۔

Comments are closed.