مزاحمتی لیڈر شاہد الاسلام کو’ حراستی پے رول ‘ فراہم، دن صرف اہل وعیال کے ساتھ ،رات پولیس حراست میں گزار نی ہوگی

سرینگر:۲۹،جنوری ؍کے این این ؍ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے )کی خصوصی عدالت نے نظر بند مزاحمتی لیڈر اور حریت (ع) چیئرمین ،شاہد الاسلام کے حق میں ایک ہفتے کیلئے ’حراستی پے رول ‘ جاری کردیا ہے ،تاہم موصوف کو ہدایت دی گئی کہ وہ دن صرف اپنے اہل وعیال کے ساتھ اور رات پولیس تھانے یا پولیس حراست میں گزاریں ۔یاد رہے کہ سابق خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے شاہد الاسلام کی اہلیہ کے بیمار ہونے پر اُنکی انسانی بنیادوں پر رہائی کا مطالبہ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کیا تھا ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے ) نے نظر بند مزاحمتی لیڈر اور حریت (ع) چیئرمین ،شاہد الاسلام کے حق میں ایک ہفتے کیلئے ’حراستی پے رول ‘ جاری کردیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شاہد الاسلام کو این آئی اے کی خصوصی عدالت نے مشروط ’حراستی پے رول ‘ پر رہا کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حراستی پے رول کی مدت ایک ہفتے کیلئے ہوگی اور ممکنہ طور پر اس میں توسیع بھی ہوسکتی ہے ۔میڈیا رپورٹس میں بتایا کہ این آئی کی خصوصی عدالت نے موصوف کو ہدایت دی گئی کہ وہ دن صرف اپنے اہل وعیال کے ساتھ اور رات پولیس تھانے یا پولیس حراست میں گزاریں ۔ میڈیا رپورٹس میں شاہد الاسلام کی اہلیہ نظہت شاہدنے بتایا ہے کہ ’حراستی پے رول ‘ پرشاہد الاسلام کوسوموار کے روز ایک بجے رہا کردیا گیا ،اور یہ غیر تصدیق شدہ اطلاع ہے ۔انہوں نے کہا ’نہ تو جیل حکام نے اور نہ ہی این آئی اے ان سے پے رول کے بارے میں رابط کیا ‘۔ان کا کہناتھا کہ شاہد الاسلام کو ایک ہفتے کو پے رول ملا ہے اور اسکا وقت تب شروع ہوگا جب شاہد الاسلام گھر پہنچے گے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہد الاسلام کو حراستی پے رول کے تحت صبح10بجے شام5بجے تک اپنے اہل وعیال کے ساتھ وقت گزارنا ہوگا جبکہ باقی وقت اُنہیں پولیس حراست میں گزار نا ہوگا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حراستی پے رول پر رہائی کے دوران وہ اپنے عیال کے علاوہ کسی سے بھی ملاقات نہیں کرسکتے ہیں جبکہ متعلقہ ایس ایس پی ہی اس بات کا فیصلہ کریں گے ،کہ وہ رات کہاں گزار یں گے ۔بتایا جاتا ہے کہ شاہد الاسلام نئی دہلی سیکیورٹی افسران کے ہمراہ کشمیر کی طرف روانہ ہوئے اور ممکنہ طور پر منگل شام تک وہ گھر پہنچ جائیں گے ۔این آئی اے نے شاہد الاسلام کو جولائی2017میں ٹیرئر فنڈنگ کیس میں گرفتار کرکے تہاڑ جیل نئی دہلی میں مقید رکھا ۔12جنوری کو اُنکی اہلیہ کو دل کا دورہ پڑا تھا ،جسکے بعد اُنہیں اسپتال منتقل کیا گیا ۔سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے شاہد الاسلام کی انسانی بنیادوں پر رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے بات کی تھی ۔ادھر ڈیمو کریٹک فریڈم پارٹی نے اپنے محبوس قائد شبیر شاہ کی تہار جیل میں حالت پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جملہ کشمیری سیاسی قیدیوں کو بھارتی ظلم کا شکار قرار دیا ہے۔پارٹی ترجمان نے ریاست اور اس سے باہر کی جیلوں میں کشمیری قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جارہے غیر انسانی برتاؤ کی مذمت کرتے ہوئے بھارت کی سیول سوسائٹی اور بین الاقوامی سطح پر سرگرم متعلقہ اداروں سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ وہ شبیر شاہ سمیت کشمیر کے جملہ سیاسی قیدیوں کی اسیری ختم کرانے کیلئے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کریں جو مختلف جیلوں کے اندر انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگیاں گذارنے پر مجبور کئے گئے ہیں اور جن کے ساتھ عام اخلاقی مجرموں جیسا سلوک روا رکھا جارہا ہے۔ایک بیان میں فریڈم پارٹی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کشمیر کے سبھی قیدی، جو مختلف ریاستی یا بھارت کی جیلوں میں اسیر بنائے گئے ہیں، اگر چہ سیاسی قیدی ہیں لیکن اُنہیں ہر اُس سہولیت سے محروم رکھا جارہا ہے جو جیل مینول کے مطابق اُن کا حق ہے۔ نئی دلی کے حکمرانوں کا ظلم ہر حد پار کرگیا ہے اور وہ شبیر شاہ اور دیگر کشمیری قیدیوں کی اسیری کو نہ صرف غیر ضروری طول دے رہے ہیں بلکہ اُن پر زیادتی روا رکھے ہوئے ہیں۔

Comments are closed.