پروفسروں ،اساتذہ،لیکچراروں اور طلاب کی حرکات و سکنات پر نظر رکھنے کافیصلہ/ذرائع
اسکولوں کالجوں اور ہائرسیکنڈریوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نسب کئے جارہے ہیں
سر ینگر/ 27 جنوری/ اے پی آ ئی تعلیم کے میعار کوبہتر بنا نے اور طلاب کا کلاسوں میں درس وتدریس میں شامل رہنے کیلئے محکمہ تعلیم تمام سرکاری اسکولوں ،ہائر سیکنڈریوں اور کالجوں میں سی سی ٹی وی کیمرہ نسب کرنے پر سنجیدگی کے ساتھ غور کررہا ہے تا کہ اساتذہ کی کار کردگی زیرتعلیم طلاب کے حرکات و سکنات کا ہر ہفتے جائزہ لیا جاسکے ۔اے پی آ ئی کو اس ضمن میں ذرائع نے جوتفصیلات فر اہم کی ہے ان کے مطابق دسویں ،گیارویں اور بارویں جماعتوں کے سالانہ امتحان کے دوران منفی نتائج منظر عام پرآ نے کے بعد محکمہ تعلیم نے سرکاری اسکولوں کالجوں اور ہائرسیکنڈریوںمیں تعلیم کے میعار کوبہتر بنا نے ،تعینات اساتذہ ،لیکچراروں ،پروفسروں کی دیوٹی کو یقینی بنا نے اور زیرتعلیم طلاب کے حرکات و سکنات کا درس و تدریس کیلئے کلاسوں میں حاضررہنے کیلئے سی سی ٹی وی کیمرہ نسب کر نے کیلئے سنجیدگی کیساتھ غور کررہا ہے ۔ذرائع کے مطابق اپریل اور مئی مہینوں کے دوران ریاست خاص کروادی کشمیر کے تمام کالجوں ہائرسیکنڈریوں اور سرکاری اسکولوں میں سی سی ٹی وی کیمرہ نسب کر نے کے بارے میں اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں ۔ذرائع کے مطابق اگر چہ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے سی سی ٹی وی کیمرے نسب کرنے کے منصوبے کوہری جھنڈی دکھا دی ہے تا ہم کئی معملات پر اب بھی غور کرنا باقی ہیں ۔ذرائع کے مطابق دور دراز علاقوں میں قا ئم کئے گئے سرکاری اسکولوں کالجوں اور ہائرسیکنڈریوں میں وہ سہولیات ابھی تک طلاب کو دستیا ب نہیں ہے جن کا محکمہ تعلیم دعویٰ کررہا ہے اور ان سہولیات کو بہم پہنچانے کیلئے سرکار سے رقومات حاصل کرنے اور ان کا خرچ کرنے کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ معاملے پر غور ہورہا ہے ۔ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم کوشبہ ہے کہ اساتذہ لیکچراروں اور پرافسروں کی ایک بڑی تعداد اپنے فرائض خوش اسلوبی کیساتھ انجام دینے سے قا صر ہیں اور ایسے اساتذہ لیکچراروں پروفسروں کی کار کردگی کی وجہ سے ہی تعلیم کامیعار سرکاری اسکولوں کالجوں اور ہائرسیکنڈریوں میں کم ہورہا ہے اور ایسے عناصر کے خلاف ٹھوس ثبوت حاصل کرنے کیلئے سی سی ٹی وی کیمروں کو نسب کیا جارہا ہیں۔
Comments are closed.